صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 516
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۱۶ ۷۳ کتاب الأضاحي يُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا أُخْرَى وَمَنْ لَّمْ ساتھ موجود تھا۔آپ نے فرمایا: جس نے نماز يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ۔أطرافه ۹۸۵۸ ، ٥٥۰۰، ٤٦٦٧٤ ٧٤٠٠- پڑھنے سے پہلے ذبح کیا تو وہ اس کی بجائے ایک اور قربانی کرے اور جس نے ذبح نہ کیا ہو تو وہ اسے ذبح کرے۔٥٥٦٣: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۵۵۶۳ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ فِرَاسِ عَنْ ابو عوانه ( وضاح) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَامِرٍ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ صَلَّى رَسُوْلُ فراس ( بن يحي ) سے، فراس نے عامر (شعبی) اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ سے، عامر نے حضرت براء بن عازب) سے فَقَالَ مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ قِبْلَتَنَا فَلَا يَذْبَحْ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَقَامَ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی۔آپ نے فرمایا: جس نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ ہمارے قبلے کی طرف منہ کیا تو وہ اس وقت تک فَعَلْتُ فَقَالَ هُوَ شَيْءٌ عَجَّلْتَهُ قَالَ ذبح نہ کرے جب تک نماز سے فارغ نہ ہو جائے۔فَإِنَّ عِنْدِي جَدَعَةً هِيَ خَيْرٌ مِنْ یہ سن کر حضرت ابو بردہ بن نیاڑ کھڑے ہوئے اور مُسِنَّتَيْنِ اذْبَحُهَا قَالَ نَعَمْ ثُمَّ لَا کہنے لگے: یا رسول اللہ ! میں نے ایسا کیا ہے۔تَجْزِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ۔قَالَ عَامِرٌ آپ نے فرمایا: تم نے اس میں کچھ جلدی ہی کی۔هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْهِ۔انہوں نے کہا: میرے پاس ایک برس کا بکر وٹا ہے وہ دو دو برس کی دو بکریوں سے بہتر ہے میں اسے ذبح کئے دیتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا: ہاں پھر تمہارے بعد کسی کے لیے (کم عمر بکر وٹا قربانی کے قائمقام نہ ہو گا۔عامر نے کہا: یہ اس کی دو قربانیوں سے بہتر قربانی تھی۔أطرافه: ٩٥۱ ٩٥٥ ٩٦٥ ٩٦٨، ۹۷۶، ۹۸۳، ٥٥٤٥، ٥٥٥٦، ٥٥٥، ٥٥٦، -٦٦٧٣