صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 513
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۱۳ ۷۳ - كتاب الأضاحي بَاب ١٠: مَنْ ذَبَحَ ضَحِيَّةَ غَيْرِهِ جس نے کسی اور شخص کی قربانی کو ذبح کیا وَأَعَانَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ فِي بَدَنَتِهِ اور ایک شخص نے حضرت ابن عمر کی اونٹنی کو نحر وَأَمَرَ أَبُو مُوسَى بَنَاتِهِ أَنْ يُضَحِيْنَ کرنے میں مدد کی۔اور حضرت ابو موسی اشعری) نے اپنی بیٹیوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے ہاتھ سے قربانی بِأَيْدِيهِنَّ۔ذبح کریں۔٥٥٥٩: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ۵۵۵۹ قتیبہ بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا کہ سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عبد الرحمن بن قاسم سے، عبد الرحمن نے اپنے قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى باپ (قاسم بن محمد) سے،انہوں نے حضرت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ وَأَنَا أَبْكِي عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں: فَقَالَ مَا لَكِ أَنْفِسْتِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سرف هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ (مقام) میں آئے اور میں رورہی تھی۔آپ نے اقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُ غَيْرَ أَنْ لَّا فرمایا: تمہیں کیا ہوا، کیا تمہیں حیض آیا ہے؟ میں تَطُوْفِي بِالْبَيْتِ وَضَحَى رَسُوْلُ اللهِ نے کہا: ہاں۔آپ نے فرمایا: یہ ایک ایسا امر ہے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے لئے مقدر کیا ہے۔بِالْبَقَرِ۔جو حج کرنے والا کرتا ہے وہ کرو مگر بیت اللہ کا طواف نہ کرو۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔أطرافه: ٢٩٤، ٣٠٥، ۳۱٦، ۳۱۷، ۳۱۹، ۳۲۸، ۱٥١٦، 15۱۸، 1556، 1560، ،١٧٦٢ ،۱۷۰ ،۱۷۳۳ ،۱۷۲۰ ،١٥٦١، ١٥٦٢، ١٦٣٨، ١٦٥٠ ،۱۷۰۹ ،٤۳۹۵ ،۲۹۸۴ ،۲۹۰۲ ،۱۷۸۸ ،۱۷۸۷ ،۱۷۸۶ ،۱۷۸۳ ،۱۷۷۲ ،۱۷۷۱ ۷۲۲۹ ،۶۱٥، ٥٥٥٤٨۳۲۹ ،٠٤٤٠١ ٤٤٠٨