صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 512
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۱۲ ۷۳ - كتاب الأضاحي ٹوٹا اور کانا جانور جائز نہیں۔اسی طرح بیمار اور لاغر کی قربانی بھی درست نہیں۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع فرماتے ہیں: جس مینڈھے کا ذکر تھا وہ ایک سال کا تھا اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا تھا کہ اس کی تمہیں اجازت ہے مگر آئندہ سے یہ دوسروں کو اجازت نہیں ہو گی۔پس اب قانون یہی ہے کہ جانور کم سے کم دو برس کا ہونا چاہئے۔“ خطبات عیدین، خطبہ عید الاضحیه ۲۳ فروری ۲۰۰۲، صفحه ۷۰۰) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قربانی میں دو برس سے کم کوئی جانور نہیں چاہئے، یہی میری تحقیق ہے۔(۲) جس کے سینگ بالکل نہ ہوں وہ جائز ہے۔(۳) خصی جائز ہے۔(۴) مادہ بھی جائز ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیشہ چھتر ا قربانی دیتے جس کا منہ ، آنکھیں، پیٹ، پاؤں سیاہ ہوتے۔جو بالکل دبلا ہو وہ جائز نہیں۔اگر جانور موٹا ہو، خواہ اسے خارش ہو تو بھی اسے جائز رکھا ہے۔(۵) لنگڑ ا مناسب نہیں۔(خطبات نور صفحہ ۴۳۷) باب ۹: مَنْ ذَبَحَ الْأَصَاحِيَّ بِيَدِهِ جس نے اپنے ہاتھ سے قربانیوں کو ذبح کیا ٥٥٥٨ : حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ :۵۵۵۸ آدم بن ابی ایاس نے ہمیں بتایا کہ شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ نے ہم سے بیان کیا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا۔انہوں قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت انس سے، حضرت انس نے کہا: نبی وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَرَأَيْتُهُ صلى اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھے قربان وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا يُسَمِّي کئے۔میں نے آپ کو اپنا قدم ان کے ایک پہلو پر رکھے ہوئے دیکھا۔بسم اللہ اور اللہ اکبر کہتے ہوئے وَيُكَبِّرُ فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ۔آپ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔أطرافه ٥٥٥٣، ٥٥٥٤، ٥٥٦٤، ٥٥٦٥، ۷۳۹۹۔(جامع ترمذي، أبواب الأَضَاحِي، بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الأَصَاحِي)