صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 503
صحیح البخاری جلد ۱۳ فَتَجَزَّعُوْهَا۔أطرافه ٩٥٤، ٩٨٤، ٥٥٤٦ ٥٥٦١- ۵۰۳ ۷۳- كتاب الأضاحي اور لوگ بھی اپنی بکریوں کی طرف گئے اور ان کو بانٹ لیا یا کہا اُن کے حصے کر لیے۔تشريح: مَا يُفعَلَى مِنَ اللَّحْمِ يَوْمَ النَّخر: عید الاضحی میں گوشت کھانے کی خواہش کرنا۔شریعت ان اصول و ضوابط کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شارع نبی پر نازل کیے جاتے ہیں اور وہ شارع نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی راہنمائی اور تفہیم کے مطابق ان کی عملی تصویر پیش کرتا ہے۔اس لیے اس سنت کے مطابق جو نبی قائم فرمائے چلنا ہر مومن کا فرض ہے اور کوئی شخص از خود اپنی مجبوری سمجھ کر شریعت کے کسی حکم کو بدل نہیں سکتا۔ہاں شارع علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق موقع محل کی مناسبت سے فیصلہ فرماتا ہے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کی اجازت دی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہابی کسی قدر اس سے بچے ہوئے تھے مگر دوسرے مسلمانوں نے عجیب عجیب حیلے تراشے ہوئے تھے۔مثلاً ایک مشہور فقہ کی کتاب میں لکھا ہے کہ قربانی کرنا عید کی نماز کے بعد سنت ہے لیکن اگر کسی کو نماز سے پہلے قربانی کرنے کی ضرورت ہو تو وہ یوں کرے کہ شہر کے پاس کے کسی گاؤں میں جا کر بکرا ذبح کر دے۔کیونکہ عید شہر میں ہوسکتی ہے اور اس جگہ کے لئے عید کے بعد قربانی کی شرط ہے اور وہاں سے گوشت شہر میں لے آئے۔“ ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کارنامے، انوار العلوم جلد ۱۰ صفحہ ۱۷۴) بَابه : مَنْ قَالَ الْأَضْحَى يَوْمُ النَّحْرِ جس نے کہا قربانی دسویں تاریخ کو ہو ٥٥٥٠: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ۵۵۵۰: محمد بن سلام نے ہمیں بتایا کہ عبد الوہاب حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب (سختیانی) نے ہمیں عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ بتایا۔انہوں نے محمد (بن سیرین) سے، محمد نے أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ (عبد الرحمٰن) بن ابی بکرہ سے، عبد الرحمن نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الزَّمَانَ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے ، حضرت ابو بکرہ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ الله نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے