صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 494
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۹۴ -۷۲ - كتاب الذبائح والصيد کہ معلوم ہوتا ہے یہ اس شخص کو تکلیف دینے کی وجہ سے ہے۔آخر یہ قرار پایا کہ مسلمانوں کے خلیفہ کو دعا کے لئے لکھا جائے۔اور چونکہ ایسی صورت میں ان کے لئے یہ مناسب نہ تھا کہ ایک مسلمان پر وہ ایسی سختی کریں ورنہ دعا مشکل تھی۔اس لئے وہ مجبور ہو کر اُسے کھانا دینے لگ گئے پس جو لوگ ایمان میں پختہ ہوتے ہیں خدا تعالیٰ ان پر ایسا موقعہ ہی نہیں لاتا کہ انہیں حرام چیز کھانی پڑے۔خداتعالی خود ان کے لئے ہر قسم کی خیر و برکت کے سامان مہیا کر دیتا ہے۔اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر کسی موقعہ پر انتہائی مجبوری کی وجہ سے مردار یا سور کا گوشت استعمال کر لیا جائے تو جن زہر یلے اثرات کی وجہ سے شریعت نے ان چیزوں کو حرام قرار دیا ہے وہ بہر حال ایک مومن کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ان نتائج کا تدارک اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ انسان غفور اور رحیم خدا کا دامن مضبوطی سے پکڑلے اور اُسے کہے کہ اے خدا میں نے تو تیری اجازت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی جان بچانے کے لئے اس زہریلے کھانے کو کھا لیا ہے لیکن اب تو ہی فضل فرما اور ان مہلک اثرات سے میری روح اور جسم کو بچا جو اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔اسی حکمت کے باعث آخر میں اِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِیم کہا گیا ہے تا کہ انسان مطمئن نہ ہو جائے بلکہ بعد میں بھی وہ اس کی تلافی کی کوشش کرتار ہے اور خدا تعالیٰ سے اُس کی حفاظت طلب کرتارہے۔( تفسير كبير ، سورة البقرة زير آيت إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَة۔۔۔جلد دوم صفحه ۳۴۴ تا ۳۴۶) وَلَحْمَ الْخِنْزِير : اور خنزیر کے گوشت کو۔قرآن کریم نے جن چار چیزوں کا کھانا حرام قرار دیا ہے ان میں سے ایک سور کا گوشت ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خنزیر کے گوشت کا اثر بھی انسان کے جسم اور اُس کے اخلاق پر نہایت بُرا پڑتا ہے۔جسم پر تو اس کا اس طرح گندہ اثر پڑتا ہے کہ اس کے گند اور کیچڑ میں رہنے اور گندی ذہنیت کو پسند کرنے کے سبب سے اس کے گوشت سے کئی قسم کی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔چنانچہ مسٹر JONATHAN NICHOLSON اپنی کتاب SWINE FLESH میں لکھتے ہیں: IT IS EXCEPTIONAL EVIDENCE AGAINST THE HATEFUL HOG WHEN WE SAY TAPE WORM,