صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 493
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۹۳ -۷۲- - كتاب الذبائح والصيد وغیرہ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی اس لئے اللہ تعالٰی نے إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ فرما کر اس طرف توجہ دلائی کہ تمہارا اس حالت کو پہنچنا بتاتا ہے کہ تم تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر فائز نہیں تھے ورنہ خدا تعالیٰ تمہیں اس حالت سے بچالیتا اور تمہارے رزق کے لئے غیب سے کوئی اور صورت پیدا فرما دیتا۔آخر آج تک اُمت محمدیہ میں لاکھوں اولیاء اللہ گذرے ہیں کیا کسی ادنیٰ سے ادنی اولی کے متعلق بھی یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ اُس پر ایسا فاقہ آیا کہ وہ مردار یا سور کا گوشت کھانے پر مجبور ہو گیا۔اگر نہیں تو پھر ایسے شخص کو یہ محسوس کرنا چاہیے کہ اُس سے اپنی پہلی زندگی میں کوئی نہ کوئی قصور ایسا ضرور سرزد ہوا ہے جس کی پاداش میں اُسے یہ دن دیکھنا پڑا کہ وہ مومن کہلاتے ہوئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں سے ہوتے ہوئے سور کا گوشت کھانے پر مجبور ہو گیا۔بے شک ایسی حالت میں اُس کا بقدر ضرورت چند لقمے لے لینا اور موت سے اپنے آپ کو بچا لینا جائز ہے لیکن چونکہ اس کی یہ حالت کسی مخفی شامت اعمال کا نتیجہ ہو گی اس لئے اُسے چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کا جائزہ لے کر اپنی گذشتہ کمزوریوں پر ندامت کے آنسو بہائے۔خدا تعالیٰ کے حضور توبہ اور استغفار سے کام لے اور دُعا کرتا رہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی کمزوریوں کو معاف فرمائے اور ان پر پردہ ڈالے اور اُسے اپنی مغفرت کے دامن میں لے لے۔اگر وہ سچے دل سے ایسا کرے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کو غفور اور رحیم پائے گا۔اور آئندہ اس قسم کے حالات میں مبتلا ہونے سے محفوظ ہو جائے گا۔ایک صحابی کا واقعہ ہے انہیں جنگ میں پکڑ کر اور قید کر کے قیصر کے پاس بھیجا گیا۔اس نے چاہا کہ انہیں قتل کر دے۔مگر اس کے مصاحبوں نے کہا کہ قتل نہیں کرنا چاہیے کیونکہ مسلمان بھی ہمارے قیدیوں کو قتل نہیں کرتے اور اگر عمر کو پتہ لگ گیا کہ اُن کے ایک آدمی کو قتل کیا گیا ہے تو وہ اس کا سختی سے انتقام لیں گے۔قیصر نے کہا میں تو چاہتا ہوں کہ اسے ایسی سزا دوں جو دوسروں کے لئے باعث عبرت ہو۔اس پر انہوں نے کہا اسے سور کا گوشت کھلانا چاہیے۔چنانچہ انہوں نے اس صحابی کو چند دن بھوکا رکھا اور پھر سور کا گوشت کھانے کو دیا اس نے کھانے سے سختی سے انکار کر دیا وہ اسے کھانے پر مجبور کر رہے تھے کہ قیصر کے سر میں شدید درد شروع ہو گئی جس کا اُن سے کوئی علاج نہ ہو سکا۔اس کے مصاحبوں نے کہا