صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 495
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۹۵ -۷۲ - كتاب الذبائح والصيد SCROFULA, CANCER AND ENEYSTER TRICHINA ARE UNKNOWN AMONG STRICT JEWS۔THEY NEVER TOUCH THE HOG FLESH۔یعنی سور کے گوشت کے متعلق ایک غیر معمولی عجیب شہادت یہ ہے کہ کدو دانے اور سل کا مادہ یہودیوں کے اندر اس لئے پیدا نہیں ہوتا کہ وہ سور کا گوشت نہیں کھاتے۔اگر ان کی یہ بات پوری طور پر تسلیم نہ بھی کی جائے تب بھی اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ سور خور قوموں میں یہ بیماریاں زیادہ ہوتی ہیں۔سور کے گوشت سے ایک مہلک بیماری پیدا ہوتی ہے جسے TRICHINOSIS کہتے ہیں۔اس میں پہلے ہیضہ کی علامات ظاہر ہوتی ہیں پھر بخار ہو جاتا ہے پھر بدن میں درد شروع ہو جاتا ہے اور آخر میں نمونیا ہو جاتا ہے۔میڈیکل جیورس پروڈنس میں لکھا ہے کہ اس مرض کا کوئی علاج نہیں۔اسی طرح سور کے گوشت سے آنتوں میں کیڑے پڑ جاتے ہیں جو کدو دانہ کے مشابہ ہوتے ہیں اور سالہا سال تک رہتے ہیں۔ڈاکٹر ایف بٹلر ایم۔ڈی۔ایف۔آر۔سی۔پی اپنی کتاب ”پریکٹس آف میڈیسن“ میں لکھتے ہیں کہ سور میں یہ بیماری پاخانہ کھانے سے پیدا ہوتی ہے لیکن ان ضرروں سے بھی بڑھ کر بلکہ اصل باعث اس کی حرمت کا وہ خرابیاں ہیں جو اخلاق میں پیدا ہوتی ہیں۔صرف سور ہی ایک ایسا جانور ہے جس میں نر کو نر پر پھاند نے کی عادت ہے پس وہ لوگ جو سور کا گوشت کھانے کے عادی ہیں ان میں بھی دیوٹی بڑھ جاتی ہے اور حیا کامادہ کم ہو جاتا ہے۔پھر اس میں شجاعت بھی نہیں ہوتی بلکہ تہور کی عادت ہوتی ہے جس وقت اسے غصہ آجائے وہ آگے پیچھے نہیں دیکھتا بلکہ سیدھا حملہ کرتا ہے اور اسی عادت کی وجہ سے شکاری اسے جلد مار لیتا ہے۔جب شکاری اُسے گولی مارتا ہے تو وہ غصہ میں سیدھا حملہ کرتا ہے اور اس طرح جلدی گر جاتا ہے۔اسی طرح جو قوم سور کا گوشت کھانے والی ہو گی اس میں بھی شجاعت نہیں پائی جائے گی بلکہ تہور پایا جائیگا۔“ ( تفسير كبير ، سورة البقرة زير آيت إنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ۔۔۔جلد دوم صفحه ۳۴۲،۳۴۱)