صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 492
صحیح البخاری جلد ۱۳ -۷۲ ۴۹۲ - كتاب الذبائح والصيد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: فَمَنِ اضْطَرَ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادِ میں پہلی شرط تو یہ رکھی کہ یہ استثنیٰ صرف اس شخص کے لئے ہے جو مضطر ہو جائے اور اضطرار کے معنے کسی شخص کو کسی ایسے کام پر مجبور کر دینے کے ہیں جو اس کے لئے باعث ضرر ہو یا جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔اور یہ مجبوری دو قسم کی ہوتی ہے ایک بیرونی تہدید و تخویف اور ایک اندرونی جیسے ہیجان جذبات اور مطالبات نیچر وغیرہ۔( مفردات راغب) دوسری شرط یہ رکھی کہ وہ باغی یعنی سرکش اور قانون شکن نہ ہو۔تیسری شرط یہ رکھی کہ وہ عادی یعنی حد سے گذرنے والا نہ ہو۔باغی کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی اپنے کسی عیسائی دوست کے گھر میں بیٹھا ہوا ہو اور وہ بے تکلفی سے گھر والوں سے کہے کہ مجھے کچھ کھانے کے لئے دو اور وہ سور کا گوشت سامنے رکھ دیں تو وہ اُسے بے تکلف کھانے لگ جائے۔یہ بغاوت اور نافرمانی ہو گی۔سور کا گوشت کھانا صرف اُس وقت جائز ہو گا جب وہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہو اور اُسے کھانے کے لئے سور کے گوشت کے سوا اور کوئی چیز کھانے کی میسر نہ آرہی ہو کیونکہ اس وقت اس کے استعمال میں نقصان کم اور عدم استعمال میں نقصان زیادہ ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وَلَا عَادٍ فرما کر بتا دیا کہ مضطر کو بھی کلی طور پر اجازت نہیں دی گئی کہ وہ پیٹ بھر کر کھانا کھالے بلکہ صرف اتنا کھانے کی اجازت دی گئی ہے جس سے اس کی زندگی قائم رہ سکے اگر وہ ان حدود کا خیال رکھے گا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔لیکن اگر وہ اس خیال سے کہ آج تو پہلی مرتبہ سور کا گوشت کھانے کا موقعہ ملا ہے خوب سیر ہو کر کھالے تو یہ ناجائز ہو گا۔بہر حال اضطرار تاویلی نہیں بلکہ حقیقی ہونا چاہیے تب ان چیزوں کا استعمال اس کے لئے جائز ہو گا۔آخر میں فرمایا کہ اِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِیم اللہ تعالی بڑا بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اور یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ایسی مجبوری کی حالت میں کھانے والے پر کوئی گناہ نہیں تو بخشنے کے کیا معنے ہوئے۔اور اگر ایسی حالت میں کھانا بھی گناہ ہے تو پھر فلا اتم علیہ کا کیا مطلب ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے پتہ لگتا ہے کہ انسان سے جو کمزوریاں سرزد ہوتی ہیں وہ بھی اس کی کسی مخفی شامت اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔چونکہ اس جگہ ایسے لوگوں کا ذکر کیا جارہا تھا جنہیں مجبوری کی حالت میں لحم خنزیر