صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 491
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۹۱ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ جو کسی چیز کو کھانا چاہے سوائے مردہ یا بہتے ہوئے مُهْرَاقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ بِهِ فَمَنِ خون یا سور کے گوشت کے کوئی چیز حرام نہیں یا سور کے چیز اضْطُرَ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ پاتا ( سور کا گوشت) اس لئے کہ وہ نجس ہے، یا 이 رَّحِيمُ (الأنعام: ١٤٦) فسق کو حرام پاتا ہوں) یعنی اس چیز کو جس پر خدا کے سوا کسی اور چیز کا نام لیا گیا ہو۔ لیکن جو شخص ( اس کے کھانے پر مجبور ہو جائے بغیر اس کے کہ وہ (شریعت کا مقابلہ کرنے والا ہو یا حد سے نکلنے والا ہو تو وہ یاد رکھے کہ ) تیر ارب یقیناً بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا: (مَسْفُوحًا کے معنی ہیں) بہایا ہوا۔ وَقَالَ فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللهُ حَلَلا طيبا اور فرمایا: تم ان چیزوں سے کھاؤ جو اللہ نے تمہیں وَ اشْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ اِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ دیں، حلال ہوں پاکیزہ ہوں۔ اور اللہ کی نعمت کا تَعْبُدُونَ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْبَيْتَةَ وَ شکر کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔ اس نے الدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ تم پر صرف مردار اور خون اور خنزیر کے گوشت اللهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادِ کو نیز ان چیزوں کو جن پر غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ حرام کی ہیں مگر جو لاچار ہو خواہشمند نہ ہو اور نہ (النحل: ١١٥، ١١٦) حد سے بڑھنے والا ہو تو پھر اللہ غفور رحیم ہے۔ تشریح : منظر شخص کھا يح۔ أَكُلُ الْمُضْطَرِ : منظر شخص کا کھا لینا۔ امام بخاری اس باب میں قرآن کریم کی چار سورتوں کی آٹھ آیات لائے ہیں جن میں سے سورۃ البقرۃ سے دو آیات ، سورۃ المائدہ سے ایک، سورۃ الانعام سے تین اور سورۃ النحل سے دو آیات۔ ان آیات سے امام بخاری نے حلت و حرمت کے مسائل کو جامع صورت میں پیش کیا ہے۔ قرآن کریم کی ان آیات میں حلت و حرمت کی حکمت بھی بیان کی گئی ہے اور اضطراری صورت میں حلت کی پابندی نہ کرنے کے نتیجے میں جو جسمانی، اخلاقی اور روحانی نقصانات ہو سکتے ہیں ان کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ لے لفظ "مهراقا فتح الباری نسخہ انصاریہ میں ہے۔ ( فتح الباری جزء ۹ حاشیہ صفحہ ۸۳۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔