صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 473 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 473

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۷۳ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد کھانے کے لئے کہ اس کا گوشت اچھا ہے۔کوئی دوائی کے لئے کہ اس کے گوشت میں کسی مرض سے صحت دینے کی طاقت ہے۔صرف جانور اور حلال دیکھ کر اسے نہیں کھانا چاہئے۔ہو سکتا ہے کہ ایک جانور کا گوشت صحت کے لئے مضر نہ ہو مگر وہ مثلاً بعض فصلوں یا انسانوں میں بیماری پیدا کرنے والے کیڑوں کو کھاتا ہو۔(اسی لئے بعض قسم کے پرندے ہیں گو وہ حلال ہیں لیکن حکومتوں کی طرف سے بھی ان کو مارنے کی پابندی ہوتی ہے۔پاکستان میں بھی پابندی ہوتی ہے۔کیونکہ وہ فصلوں کے کیڑے کھا رہے ہوتے ہیں، تو فرمایا کہ کیڑے کھانے والے ہیں۔) گوشت کے لحاظ سے اس کا گوشت حلال بھی ہو گا اور طیب بھی مگر پھر بھی بنی نوع انسان کا عام فائدہ دیکھتے ہوئے اس کا گوشت طیب نہ رہے گا۔( پس بیشک حلال بھی ہے طیب بھی ہے لیکن پھر دیکھنے والی چیز یہ ہوگی کہ زیادہ فائدہ کس کا ہے۔اپنے فائدے پر بنی نوع کے فائدے کو ختم کرنا ہو گا یا بنی نوع کے فائدے کو اپنے فائدے پر ترجیح دینی ہو گی کیونکہ ان کے کھانے کی وجہ سے انسان بعض اور فوائد سے محروم رہ جائیں گے۔( حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ) مجھے بچپن ہی میں یہ سبق سکھایا گیا تھا۔میں بچپن میں ایک دفعہ ایک طوطا شکار کر کے لایا۔حضرت مسیح موعود نے اسے دیکھ کر کہا کہ محمود ! اس کا گوشت حرام تو نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ہر جانور کھانے کے لئے ہی پیدا نہیں کیا۔بعض خوبصورت جانور دیکھنے کے لئے ہیں کہ انہیں دیکھ کر آنکھیں راحت پائیں۔بعض جانوروں کو عمدہ آواز دی ہے کہ ان کی آواز سن کر کان لذت حاصل کریں۔پس اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہر جس کے لئے نعمتیں پیدا کی ہیں وہ سب کی سب چھین کر زبان ہی کو نہ دے دینی چاہئیں۔(یعنی اپنی زبان کے مزے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر جانور کو مارا جائے اور کھایا جائے اس کے دوسرے جو فوائد ہیں وہ دیکھنا چاہئیں۔صرف اپنے کھانے کا مزا نہیں لینا چاہئے۔تو پھر فرمایا کہ ) دیکھو یہ طوطا کیسا خوبصورت جانور ہے۔حضرت مسیح موعود نے حضرت مصلح موعود کو فرمایا کہ دیکھو یہ طوطا کیسا خوبصورت جانور ہے۔درخت پر بیٹھا ہوا دیکھنے والوں کو کیسا بھلا معلوم ہوتا ہو گا۔لے پس یہ خوبصورت اند از جو تربیت کا ہے نہ صرف دل پر اثر کرنے والا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد ۴ صفحه ۲۶۳)