صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 474
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۷۴ -۷۲ - كتاب الذبائح والصيد - اس حکم کو بھی ذہن میں بٹھانے والا ہے کہ حلال اور طیب تو کھاؤ لیکن اس میں بھی احتیاط ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے حلال کا بھی حکم دیا، طیب کا بھی حکم دیا لیکن طیب کی تعریف بعض جگہ بدل بھی جاتی ہے۔پس جو جانور یا پرندے دوسرے مفید کاموں میں استعمال ہو رہے ہوں یا دوسری جگہ فائدہ پہنچارہے ہوں ان میں سے بعض حلال ہونے کے باوجو د طیب نہیں رہتے کیونکہ ان کا فائدہ ان کے گوشت کھانے سے دوسری جگہ پر بہر حال زیادہ ہے۔“ 66 ( خطبه جمعه بیان فرموده ۱۸ مارچ ۲۰۱۶ ، روزنامه الفضل ۲۶ اپریل ۲۰۱۶، صفحه ۳،۲) باب ۲۸: لُحُومُ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ پالتو گدھوں کے گوشت فِيْهِ عَنْ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ اس کے متعلق حضرت سلمہ بن اکوع) سے مروی ہے۔انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔روایت کی۔٥٥٢١: حَدَّثَنَا صَدَقَهُ أَخْبَرَنَا عَبْدَهُ ۵۵۲۱: صدقہ (بن فضل) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ سَالِمٍ وَنَافِعِ عَنِ عبده (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نَهَى عبيد الله (عمری) سے ، عبید اللہ نے سالم اور نافع النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سے، ان دونوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما لُحُوْمِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ يَوْمَ خَيْبَرَ۔سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے روک دیا۔أطرافه ۸۵٣، ۴۲۱۵ ،٤۲۱۷ ٤٢١٨ ٥٥٢٢ ٥٥٢٢: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۵۵۲۲: مدد نے ہم سے بیان کیا کہ يحجي (بن يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبید اللہ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى (عمری) سے ، (عبید اللہ نے کہا: ) نافع نے مجھ سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُوْمِ الْحُمُرِ بیان کیا۔انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر) سے الْأَهْلِيَّةِ، تَابَعَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ روایت کی۔حضرت عبد اللہ نے کہا: نبی صلی اللہ ہم نے