صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 472 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 472

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۷۲ ط ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد اور اس کا گوشت کھایا گیا مگر اس کے کھانے کا عام رواج صحابہ کے دور میں ودیگر اسلامی دنیا میں بالعموم نہیں پایا جاتا سوائے روس کی بعض ریاستوں و دیگر علاقوں کے۔لیکن قرآن کریم نے گھوڑے کا جو استعمال بیان فرمایا ہے وہ اس کا گوشت کھانے سے کہیں زیادہ مفید اور بنی نوع انسان کے لیے راحت کا موجب ہے۔نیز گھوڑے کو جہاد کے لیے بہت اہم سمجھا جاتا تھا اور آج بھی دنیا کی اکثر افواج اور ادارے حفاظت اور ملکی انتظام کے لیے گھوڑوں کو بڑے اہتمام سے رکھتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کے متعلق ایک دائمی خیر وابستہ ہونے کی پیشگوئی فرمائی ہے۔جیسا کہ آپ نے فرمایا: الخَيْلُ مَعْقُودُ فِي نَوَاصِيهَا الخَيْرُ إِلَى يَوْمِ القیامۃ۔لے پس گھوڑا گوشت سے کہیں زیادہ اپنے دیگر فوائد کی وجہ سے کھایا نہیں جاتا۔قرآن کریم جانوروں کے مقاصد و فوائد بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا ۚ لَكُمْ فِيهَا دِنْ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ ، وَ لَكُمْ فِيهَا جَمَالُ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِيْنَ تَسْرَحُونَ ، وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلى بَلَدٍ لَّمْ تَكُونُوا بِلِغِيهِ إِلَّا بِشِقَ الْأَنْفُسِ إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمُ لا وَالْخَيْلَ وَ البغالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (النحل : ۶ تا ۹) نیز چارپایوں کو (اللہ نے پیدا کیا ہے اور انہیں) ایسا بنایا ہے کہ ان میں تمہارے لئے گرمی کا سامان ہے اور (اور بھی) کئی نفعے ہیں اور تم ان (کے گوشت) کا کچھ حصہ کھاتے ہو۔اور (اس کے علاوہ) جب تم انہیں چرا کر شام کو ان کے تھانوں کی طرف) واپس لاتے ہو تو اس میں ایک قسم کا زینت کا سامان ہوتا ہے اسی طرح اس وقت جب تم انہیں ( صبح کو) چرنے کے لئے (آزاد) چھوڑتے ہو ( تو اس میں بھی تمہارے لئے زینت اور بڑائی کا سامان ہوتا ہے) اور وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر اس (دور کے ) شہر تک بھی لے جاتے ہیں۔جہاں تک تم اپنی جانوں کو مشقت میں ڈالے بغیر نہیں لے جاسکتے۔تمہارا رب یقیناً ( تم پر) نہایت شفقت کرنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔اور اس نے گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کو (بھی) تمہاری سواری کے لئے اور (نیز) زینت (وشان) کے لئے ( پیدا کیا ہے) اور (آئندہ بھی) وہ (تمہارے لئے سواری کا مزید سامان) جسے تم (ابھی) نہیں جانتے پیدا کرے گا۔اس آیت میں گھوڑوں کو سواری اور زینت کا باعث قرار دیا گیا۔پس ہر جانور کھانے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ ہر جانور کی تخلیق میں خالق نے اس کے مناسب حال مقاصد رکھے ہیں۔اس مضمون کا ذکر کرتے ہوئے سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود کس طرح تربیت فرمایا کرتے تھے اس کا ایک واقعہ حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں۔ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اس کی تفصیل بیان کر رہے ہیں کہ کون سی چیزیں حلال ہیں اور کونسی طیب ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف جانور مختلف کاموں کے لئے پیدا کئے ہیں۔کوئی خوبصورتی کے لئے کہ دیکھنے میں خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔کوئی آواز کے لئے کہ اس کی آواز بہت عمدہ ہے۔کوئی (بخاری، کتاب الجهاد و السير، باب الخَيْلُ مَعْفُودٌ في تَواصِيهَا الخَيْرُ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ، روایت نمبر ۲۸۵۰)