صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 461 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 461

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۶۱ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد لَا بَأْسَ بِذَبِيْحَةِ الْأَقْلَفِ۔وَقَالَ کے کفر کا بھی اس کو علم تھا۔اور حضرت علیؓ سے ابْنُ عَبَّاسٍ طَعَامُهُمْ ذَبَائِحُهُمْ۔بھی ایسا ہی بیان کیا جاتا ہے۔اور حسن اور ابراہیم نے کہا: جس کا ختنہ نہ کیا ہو اہو اس کے ذبیحہ میں بھی کوئی حرج نہیں۔اور حضرت ابن عباس نے کہا: طَعَامُهُمْ سے مراد ان کے ذبیحے ہیں۔٥٥٠٨: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا :۵۵۰۸ ابو الولید (ہشام بن عبد الملک) نے ہم شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ سے بیان کیا کہ شعبہ (بن حجاج) نے ہمیں بتایا۔عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انہوں نے حمید بن ہلال سے، حمید نے حضرت كُنَّا مُحَاصِرِيْنَ قَصْرَ خَيْبَرَ فَرَمَى عبد الله بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔إِنْسَانٌ بِجِرَابٍ فِيْهِ شَحْمٌ فَنَزَوْتُ انہوں نے کہا: ہم خیبر کے قلعہ کا محاصرہ کئے لأخُذَهُ فَالْتَفَتُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ ہوئے تھے اتنے میں کسی آدمی نے ایک تھیلا پھینکا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ۔جس میں کچھ چربی تھی۔میں اس کو لینے کے لیے لپکا، مڑ کر جو دیکھا تو سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم طرفه ٣١٥٣۔ہیں۔آپ سے مجھے شرم آئی۔تشريح : فَبَاحَ أَهْلِ الْكِتَابِ وَقومُهَا مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ وَغَيْرِ هِد : ال کتاب کے ذرا کئے ہوئے جانور اور ان جانوروں کی چہ بیاں، حربی ہوں یا ان کے سوا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلام نے اہل کتاب کا ذبیحہ جائز رکھا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ ہر مذہب نے کچھ اصول مقرر کیے ہیں اور اس کے ماننے والے ان اصول کی پیروی کرتے ہیں تم سمجھتے ہو کہ یہودی سوکر نہیں کھاتے اس لیے تم تسلی سے ان کا ذبیحہ کھا لو گے۔“ تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطاب، انوار العلوم جلد ۲۴ صفحه ۴۸۰) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ حضور بکرا وغیرہ جانور جو غیر اللہ اور تھانوں