صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 462 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 462

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۶۲ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد اور قبروں پر چڑھائے جاتے ہیں پھر وہ فروخت ہو کر ذبح ہوتے ہیں کیا ان کا گوشت کھانا جائز ہے یا نہیں ؟ فرمایا:۔شریعت کی بناء نرمی پر ہے سختی پر نہیں اصل بات یہ ہے کہ اھل بِهِ لِغَيْرِ الله (البقرہ:۱۷۴) سے یہ مراد ہے کہ جو ان مندروں اور تھانوں پر ذبح کیا جاوے یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جاوے اس کا کھانا تو جائز نہیں لیکن جو جانور بیع و شری میں آجاتے ہیں اس کی حلت ہی سمجھی جاتی ہے زیادہ تفتیش کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔لے دیکھو حلوائی وغیرہ بعض اوقات ایسی حرکات کرتے ہیں کہ ان کا ذکر بھی کراہت اور نفرت پیدا کرتا ہے لیکن ان کی بنی ہوئی چیزیں آخر کھاتے ہی ہیں۔آپ نے دیکھا ہو گا کہ شیر ینیاں تیار کرتے ہیں اور میلی کچیلی دھوتی میں بھی ہاتھ مارتے جاتے ہیں۔اور جب کھانڈ تیار کرتے ہیں تو اس کو پاؤں سے ملتے ہیں۔چوڑھے چمار گڑ وغیرہ بناتے ہیں اور بعض اوقات جو ٹھے رس وغیرہ ڈال دیتے ہیں اور خدا جانے کیا کیا کرتے ہیں ان سب کو استعمال کیا جاتا ہے اس طرح پر اگر تشدد ہو تو سب حرام ہو جاویں اسلام نے مالا يطاق تکلیف نہیں رکھی ہے بلکہ شریعت کی بنانرمی پر ہے۔“ (ملفوظات جلد سوم صفحه ۳۸۳٬۳۸۲) بَابِ٢٣: مَا نَدَّ مِنَ الْبَهَائِمِ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْوَحْشِ جو مویشیوں سے بھاگ جائے تو وہ وحشی جانوروں کی طرح ہیں وَأَجَازَهُ ابْنُ مَسْعُوْدٍ۔وَقَالَ ابْنُ اور حضرت ابن مسعودؓ نے (ان کو زخمی کرنا) جائز عَبَّاسٍ مَا أَعْجَزَكَ مِنَ الْبَهَائِمِ مِمَّا قرار دیا۔اور حضرت ابن عباس نے کہا: جو مویشی تمہارے قبضے میں ہوں ان میں سے جو بھاگ کر تَرَدَّى فِي بِثْرٍ مِنْ حَيْثُ قَدَرْتَ عَلَيْهِ فِي يَدَيْكَ فَهُوَ كَالصَّيْدِ وَفِي بَعِيرٍ مجھے تھکا دے تو پھر وہ شکاری جانور کی طرح ہی ہے اور انہوں نے اس اونٹ کے متعلق کہا جو کنوئیں فَذَكِّهِ وَرَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ وَابْنُ عُمَرَ میں گر پڑے کہ جہاں سے بھی تم کر سکو وہاں ل البدر میں مزید لکھا ہے: کیونکہ اب جگن ناتھ وغیرہ مقامات پر لاکھوں حیوان چڑھتے ہیں اور روز مرہ فروخت ہو کر ذبح ہوتے ہوں گے اگر اُن کا کھانا حرام ہو تو پھر تو تکلیف مالا طاق ہے۔“ ( ملفوظات جلد سوم حاشیه صفحه ۳۸۳)