صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 460
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۶۰ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ قَوْمًا کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے قَالُوْا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ روایت کی کہ ایک قوم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم قَوْمًا يَأْتُوْنَنَا بِلَحْم لَا نَدْرِي أَذُكِرَ سے کہا۔کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ أَمْ لَا فَقَالَ سَمُّوْا ہم نہیں جانتے آیا اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے یا عَلَيْهِ أَنْتُمْ وَكُلُوْهُ۔قَالَتْ وَكَانُوا نہیں؟ آپ نے فرمایا: تم اس پر اللہ کا نام لے لیا کرو اور اس کو کھا لو۔حضرت عائشہ کہتی تھیں اور لوگ کفر سے قریب العہد (نئے نئے آئے) تھے۔اسامہ بن حفص کی طرح علی بن مدینی) نے (عبد العزیز) در اوردی سے یہی حدیث روایت کی۔اور اسامہ کی طرح ابو خالد اور طفاوی نے بھی اسے روایت کیا۔حَدِيْثِي عَهْدِ بِالْكُفْرِ۔تَابَعَهُ عَلِيٌّ عَنِ الدَّرَاوَرْدِي۔وَتَابَعَهُ أَبُو خَالِدٍ وَالطُّفَاوِيُّ۔أطرافه: ۲۰۵۷، ۷۳۹۸ باب ۲۲: ذَبَائِحُ أَهْلِ الْكِتَابِ وَشُحُوْمُهَا مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ وَغَيْرِهِمْ اہل کتاب کے ذبح کئے ہوئے جانور اور ان جانوروں کی چہ بیاں، حربی ہوں یا ان کے سوا وَقَوْلُهُ تَعَالَى أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَتُ وَ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: آج تمہارے لئے تمام طَعَامُ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ حِلٌّ لَكُمْ " و پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں اور ان لوگوں کا کھانا طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمُ (المائدة: (٦) وَقَالَ بھی جنہیں کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہے الزُّهْرِيُّ لَا بَأْسَ بِدَيْحَةِ نَصَارَی اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے۔اور زہری الْعَرَبِ وَإِنْ سَمِعْتَهُ يُسَمِّي لِغَيْرِ الله نے کہا : عرب کے نصاری کے ذبیحہ میں کوئی فَلَا تَأْكُلْ وَإِنْ لَّمْ تَسْمَعْهُ فَقَدْ أَحَلَّهُ حرج نہیں اور اگر تم سنو کہ وہ غیر اللہ کا نام لیتا اللهُ لَكَ وَعَلِمَ كُفْرَهُمْ وَيُذْكَرُ عَنْ ہے تو پھر نہ کھاؤ اور اگر تم نہ سنو تو پھر اللہ نے عَلِي نَحْوُهُ۔وَقَالَ الْحَسَنُ وَإِبْرَاهِيْمُ اس کو تمہارے لیے حلال کر ہی دیا ہے اور ان