صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 459
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۵۹ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيْجٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ باپ (سعید بن مسروق) سے، سعید نے عبایہ بن صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلِّ يَعْنِي مَا رفاعہ سے، عبایہ نے حضرت رافع بن خدیج سے أَنْهَرَ الدَّمَ إِلَّا السِّنَّ وَالظُّفُرَ۔ روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ یعنی اس چیز کا ذبح کیا ہوا جو خون بہائے سوائے دانت اور ناخن کے۔ أطرافه : ۲٤٨٨ ، ۲۵۰۷، ۳۰۷۵، ۵۴۹۸، ۵۵۰۳، ۵۵۰۹، ٥٥٤٣، ٥٥٤٤۔ تشريح: لَا يُذَكَّى بِالسِّنِّ وَالْعَظْمِ وَالظُّفُرِ : دانت اور ہڈی اور ناخن سے ذبح نہ کیا جائے۔ دو باب ۱۸ تا ۲۰ میں ذبح کرنے کے لیے عربوں میں جو رواج تھا اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تمدن کی ان چیزوں کو چھوڑنے کی ہدایت فرمائی جن میں ظالمانہ طریق اور ایسے طریق کو اختیار کیا گیا جو اپنے اندر پاکیزگی کا وہ اعلیٰ معیار نہیں رکھتا جس کا اسلام کی تعلیم میں ذبح کرتے ہوئے خیال رکھنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حبشیوں کی تمدنی حالت بہت پست تھی۔ وہ چھری وغیرہ کے استعمال سے نا آشنا تھے۔ اس لیے اپنے ناخن بڑھا کر ان سے چھری کا کام لیتے تھے جس سے جانور کو تکلیف ہوتی۔ شہ رگ کو ناخن سے پھاڑ دیتے اور خون بہنے پر جانور مر جاتا اور پھر وہ اُسے کھاتے۔ اس طریق سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ ناخنوں کی طرح دانتوں کو بطور چھری استعمال کرنا بھی ایسا ہی ہے جیسے ہڈی سے ذبح کیا جائے۔ عرب لوگ ایام جاہلیت میں ہڈیوں سے بھی چھری کا کام لیتے تھے۔ اس سے بھی آپؐ نے منع فرمایا کہ جانوروں کو تکلیف نہ ہو۔ یہ شفقت علی خلق اللہ کا بہترین سبق ہے۔“ (صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب الشركة، باب قِسْمَةُ الختم ، جلد ۴ صفحه ۵۱۹) باب ۲۱ : ذَبِيحَةُ الْأَعْرَابِ وَنَحْوِهِمْ گنواروں اور ان کے مانند لوگوں کا ذبح کیا ہوا جانور ٥٥٠٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ۵۵۰۷: محمد بن عبید اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ حَفْصِ اسامه بن حفص مدنی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے الْمَدَنِيُّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ ہشام بن عروہ سے ، ہشام نے اپنے باپ سے ، ان