صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 444
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۴۴ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد حَتَّى جِئْتُهُمْ بِهِ فَأَبَى بَعْضُهُمْ وَأَكَلَ تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ میں نے اس کو زخمی کر ڈالا بَعْضُهُمْ فَقُلْتُ أَنَا أَسْتَوْقِفُ لَكُمُ اور پھر ان کے پاس آیا۔میں نے ان سے کہا: اٹھو النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْرَكْتُهُ اور اس کو اٹھاؤ۔انہوں نے کہا: ہم تو اس کو ہاتھ فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ فَقَالَ لِي أَبَقِيَ بھی نہیں لگائیں گے۔آخر میں ہی اس کو اٹھا کر ان مَعَكُمْ شَيْءٌ مِنْهُ قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ کے پاس لے آیا۔ان میں سے بعضوں نے انکار كُلُوْا فَهُوَ طُعْمٌ أَطْعَمَكُمُوْهُ اللَّهُ۔کیا اور بعضوں نے کھایا۔میں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارے لئے یہ مسئلہ دریافت کرتا ہوں۔میں آپ سے جاملا اور آپ سے سارا واقعہ بیان کیا۔آپ نے مجھ سے پوچھا: کیا تمہارے ساتھ اس میں سے کچھ باقی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔آپ نے فرمایا: تم کھاؤ وہ تو ایسا کھانا ہے کہ جو اللہ نے تمہیں کھلایا ہے۔أطرافه: ۱۸۲۱، ۱۸۲۲، ۱۸۲۳، ۱۸۲، ٢٥۷۰، ٢٨٥٤، ٢٩١٤، 4149، 5406، ٥٤٠٧ ٠٥٤٩٠ ٥٤٩١۔بَاب :۱۲: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ (المائدة: ٩٧) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: تمہارے لئے سمندر کا شکار حلال کیا گیا ہے وَقَالَ عُمَرُ صَيْدُهُ مَا اصْطِيْدَ وَ اور حضرت عمرؓ نے کہا: سمندر کے شکار سے مراد طَعَامُة (المائدة: ٩٧) مَا رَمَى بِهِ۔وه آبی جانور ہیں جو پکڑے جائیں۔طَعَامُہ سے وَقَالَ أَبُو بَكْرِ الطَّافِي حَلَالٌ وَقَالَ مراد وہ جانور ہیں جس کو سمندر یادر یا باہر کنارے ابْنُ عَبَّاسٍ طَعَامُه (المائدة: (۹۷) پر پھینکے۔اور حضرت ابو بکر نے کہا: جو دریائی مَيْتَتُهُ إِلَّا مَا قَذِرْتَ مِنْهَا وَالْجِرِّيُّ لَا جانور مر کر اوپر تیر رہا ہو وہ بھی حلال ہے۔اور تَأْكُلُهُ الْيَهُودُ وَنَحْنُ نَأْكُلُهُ وَقَالَ حضرت ابن عباس نے کہا: طعامه سے مراد شُرَيْحٌ صَاحِبُ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دریا کا مردار ہے سوائے اس کے کہ جس سے تو