صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 445 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 445

صحیح البخاری جلد ۱۳ - ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد وَسَلَّمَ كُلُّ شَيْءٍ فِي الْبَحْرِ مَذْبُوْحٌ کراہت کرے، اور بام مچھلی کو یہود نہیں کھاتے وَقَالَ عَطَاء أَمَّا الطَّيْرُ فَأَرَى أَنْ اور ہم کھالیتے ہیں۔اور حضرت شریح جو نبی تَذْبَحَهُ۔وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قُلْتُ صلى اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے، نے کہا: ہر جانور جو لِعَطَاءِ صَيْدُ الْأَنْهَارِ وَقِلَاتِ السَّيْلِ سمندر میں ہے وہ ذبح کیا ہوا یعنی حلال ہے۔اور أَصَيْدُ بَحْرٍ هُوَ قَالَ نَعَمْ ثُمَّ تَلَا هُذَا عطاء ( بن ابی رباح) نے کہا: پرندہ تو میں سجھتا ہوں عَذَبٌ فُرَاتَ سَابِعَ شَرَابُهُ وَهُذَا مِلْح ذبح کیا جائے۔اور ابن جریج نے کہا: میں نے عطاء أَجَاج وَ مِنْ كُلِّ تَأْكُلُونَ لَحْمًا طَرِيًّا ( بن ابی رباح) سے پوچھا: ندیوں اور نالوں کا شکار (فاطر: (۱۳) وَرَكِبَ الْحَسَنُ عَلَى بھی سمندر ہی کے شکار ہیں ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔سَرْجِ مِنْ جُلُوْدِ كِلَابِ الْمَاءِ۔وَقَالَ پھر عطاء نے یہ آیت پڑھی: یہ میٹھا نہایت ہی الشَّعْبِيُّ لَوْ أَنَّ أَهْلِيْ أَكَلُوا الصَّفَادِعَ شیریں پیاس بجھانے والا پانی ہے اور یہ نہایت تلخ لَأَطْعَمْتُهُمْ وَلَمْ يَرَ الْحَسَنُ کھاری ہے اور ہر ایک سے تم تازہ بتازہ گوشت کھاتے ہو۔اور حضرت حسن (رضی اللہ عنہ ) ایسے زین پر سوار ہوئے جو دریائی کتوں کی کھالوں سے بِالسُّلَحْفَاةِ بَأْسًا۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُلْ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ نَصْرَانِي أَوْ بنی ہوئی تھی۔اور شیعی نے کہا: اگر میرے گھر يَهُوْدِيَ أَوْ مَجُوْسِيّ۔وَقَالَ أَبُو والے مینڈک کھائیں تو میں ان کو ضرور کھلاؤں۔الدَّرْدَاءِ فِي الْمُرِي ذَبَحَ الْخَمْرَ اور حسن (بصری) نے کچھوے کھانے میں کچھ حرج النِّيْنَانُ وَالشَّمْسُ۔نہیں سمجھا۔اور حضرت ابن عباس نے کہا: دریا کا شکار کھاؤ خواہ عیسائی نے کیا ہو یا یہودی نے یا کسی مجوسی نے۔اور حضرت ابو دردا نے اس مچھلی کے کھانے کا فتویٰ دیا جو شراب میں ڈال دی گئی ہو اور سورج کی دھوپ اس پر پڑی ہو۔٥٤٩٣ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۵۴۹۳: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ يحي (بن يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سعید قطان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن جریج