صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 428
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۲۸ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد رَسُوْلَ اللهِ إِنَّا نُرْسِلُ الْكِلَابَ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں الْمُعَلَّمَةَ قَالَ كُلِّ مَا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ نے کہا: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! ہم اپنے قُلْتُ وَإِنْ قَتَلْنَ قَالَ وَإِنْ قَتَلْنَ سکھائے ہوئے کتوں کو چھوڑتے ہیں۔ آپؐ نے قُلْتُ وَإِنَّا نَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ قَالَ كُلِّ فرمایا: جو تمہارے لئے پکڑ لیں ان کو کھاؤ۔ میں مَا خَرَقَ وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا نے پوچھا: اگر وہ مار ہی ڈالیں؟ آپ نے فرمایا: گو تَأْكُل۔ وہ مار ہی ڈالیں۔ میں نے پوچھا: اور ہم بے پر کے تیر سے بھی مارتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو چیز پھاڑ ڈالے اسے کھاؤ اور جو اس کی چپٹی طرف سے لگے اسے نہ کھاؤ۔ أطرافه ١٧٥، ٢٠٥٤، ٥٤٧٥، ٥٤٧٦، ٥٤٨، ٥٤٨٤، ٥٤٨٥، ٥٤٨٦، ٥٤٨٧، ۷۳۹۷ بَاب ٤ : صَيْدُ الْقَوْسِ کمان سے شکار کرنا وَقَالَ الْحَسَنُ وَإِبْرَاهِيمُ إِذَا ضَرَبَ اور حسن اور ابراہیم نے کہا: اگر کوئی شکار مارے صَيْدًا فَبَانَ مِنْهُ يَدْ أَوْ رِجْلٌ لَا تَأْكُلُ اور اس شکار سے ہاتھ یا ٹانگ الگ ہو جائے تو جو الَّذِي بَانَ وَكُلْ سَائِرَهُ۔ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ الگ ہوا ہے اسے نہ کھاؤ اور اس کا باقی حصہ کھاؤ۔ إِذَا ضَرَبْتَ عُنُقَهُ أَوْ وَسَطَهُ فَكُلْهُ اور ابراہیم نے کہا: اگر تم اس کی گردن کاٹ ڈالو وَقَالَ الْأَعْمَسُ عَنْ زَيْدٍ اسْتَعْصَی یا اس کے درمیان سے دو و ٹکڑے کر دو تو اسے تم ٹکڑے کھاؤ اور اعمش نے زید ( بن وہب) سے نقل کیا۔ عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عَبْدِ اللَّهِ حِمَارٌ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے خاندان سے ایک فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَضْرِبُوْهُ حَيْثُ تَيَسَّرَ شخص کے لئے ایک گورخر (کو مارنا مشکل ہو گیا دَعُوْا مَا سَقَطَ مِنْهُ وَكُلُوْهُ۔ تو حضرت عبد اللہ بن مسعود) نے ان کو حکم دیا کہ جیسے بھی آسان ہو مارو اور جو اس سے گر جائے وہ چھوڑ دو اور باقی کھاؤ۔