صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 427 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 427

صحيح البخاری جلد ۱۳ ۴۲۷ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد قَالَ لَا تَأْكُلْ فَإِنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ پکڑا ہے۔میں نے پوچھا: میں اپنے کتے کو عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى الْآخَرَ چھوڑوں اور اس کے ساتھ کسی اور کتے کو پاؤں؟ آپ نے فرمایا: نہ کھاؤ کیونکہ تم نے اپنا کتا چھوڑتے۔وقت اس پر بسم اللہ پڑھی اور دوسرے پر (اللہ کا) نام نہیں لیا تھا۔أطرافه : ۱۷۰ ، ۲۰۰۱، ٥٤٨٣،٥٤٧٧٤٥٤٧٥، ٥٤٨٤، ٥٤٨٥، ٥٤٨٦، ٥٤٨ ۱۳۹۷ تشريح : صَيْدُ الْمِعْرَاضِ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فِي الْمَقْتُولَةِ بِالْبُنْدُقَةِ تِلْكَ الْمَوْقُوذَةُ: چھٹی چیز کے ساتھ شکار کرنا۔اور حضرت ابن عمرؓ نے اس جانور کے متعلق کہا جو غلیل سے مارا گیا ہو کہ وہ بھی مَوْقُونَةُ ہے۔زیر باب ایسے مردار کا ذکر ہے جو کسی چوٹ یا صدمہ سے ہلاک ہوا ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اور مردار کا کھانا بھی اسی لئے اس شریعت میں منع ہے کہ مردار بھی کھانے والے کو اپنے رنگ میں لاتا ہے اور نیز ظاہری صحت کیلئے بھی مضر ہے۔اور جن جانوروں کا خون اندر ہی رہتا ہے جیسے گلا گھونٹا ہو ایالاٹھی سے مارا ہوا۔یہ تمام جانور در حقیقت مردار کے حکم میں ہی ہیں۔کیا مردہ کا خون اندر رہنے سے اپنی حالت پر رہ سکتا ہے؟ نہیں بلکہ وہ بوجہ مرطوب ہونے کے بہت جلد گندہ ہو گا اور اپنی عفونت سے تمام گوشت کو خراب کرے گا اور نیز خون کے کیڑے جو حال کی تحقیقات سے بھی ثابت ہوئے ہیں۔مرکز ایک زہر ناک عفونت بدن میں پھیلا دیں گے۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۸، ۳۳۹) بَاب مَا أَصَابَ الْمِعْرَاضُ بِعَرْضِهِ جسے بے پر کا تیر چوڑان سے زخمی کرے ٥٤٧٧: حَدَّثَنَا قَبِيْصَةٌ حَدَّثَنَا ۵۴۷۷: قبیصہ (بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ سُفْيَانُ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ عَنْ سَفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے منصور هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَدِي بْنِ (بن معتمر) سے، منصور نے ابراہیم (مخفی) سے، حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا ابراہیم نے ہمام بن حارث سے، ہمام نے حضرت