صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 429 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 429

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۲۹ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد ٥٤٧٨: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ :۵۴۷۸ عبد الله بن یزید (عدوی) نے ہم سے حَدَّثَنَا حَيْوَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي رَبِيْعَةُ بْنُ بیان کیا کہ حیوۃ (بن شریح) نے ہمیں بتایا۔يَزِيْدَ الدِّمَشْقِيُّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ انہوں نے کہا: مجھے ربیعہ بن یزید وشقی نے بتایا۔أَبِي ثَعْلَبَةَ الْحُشَنِيِّ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ ربیہ نے ابوادر میں (عائذ اللہ خولانی) سے، اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلَ الْكِتَابِ ابوادر میں نے ابو ثعلبہ خشنی سے روایت کی۔وہ کہتے تھے۔میں نے کہا: یا نبی اللہ ! ہم ایسی قوم کے ملک میں ہیں کہ جو اہل کتاب ہیں، کیا ہم ان کے برتنوں میں کھالیں؟ اور ایسے ملک میں ہیں أَفَنَأْكُلْ فِي آنِيَتِهِمْ وَبِأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيْدُ بِقَوْسِي وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ وَبِكَلْبِي الْمُعَلِّمِ فَمَا يَصْلُحُ جہاں شکار ہوتا ہے میں اپنی کمان سے اور اپنے لِي قَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَهْلِ کتے کے ذریعہ سے جو سکھایا ہوا نہیں ہوتا یا اپنے الْكِتَابِ فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَهَا فَلَا اس کتے کے ذریعہ سے جو سکھایا ہوا ہوتا ہے شکار تَأْكُلُوا فِيْهَا وَإِنْ لَّمْ تَجِدُوا کروں تو کون سا شکار میرے لئے درست ہے؟ فَاغْسِلُوْهَا وَكُلُوْا فِيْهَا وَمَا صِدْتَ آپ نے فرمایا: جو تم نے اہل کتاب کا ذکر کیا ہے بِقَوْسِكَ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ اگر تمہیں ان برتنوں کے سوا اور برتن ملیں تو ان وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَذَكَرْتَ میں نہ کھانا اور اگر نہ ملیں تو انہی کو دھولو اور ان اسْمَ اللهِ فَكُلْ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ میں کھاؤ۔اور جو تم اپنی کمان کے ذریعہ شکار کرو غَيْرِ مُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ۔اور اللہ کا نام لیا ہو اسے کھاؤ اور جو اپنے سدھائے أطرافه: ٥٤٨٨، ٥٤٩٦ ہوئے کتے کے ذریعہ سے شکار کرو اور اس (اللہ ) کا نام لیا ہو تو اسے بھی کھاؤ اور جو تم نے ایسے کتے سے شکار کیا ہو جو سکھایا ہوا نہیں اور پھر تم نے اس کو ذبح کر لیا ہوا سے بھی کھالو۔تشريح : إِذَا ضَرَبَ صَيْدًا فَبَانَ مِنْهُ يَدُ أَوْ رِجُلُ لَا تَأْكُلُ الَّذِي بَانَ: اگر کوئی شکار مارے اور اس شکار سے ہاتھ یا ٹانگ الگ ہو جائے تو جو الگ ہوا ہے اسے نہ کھاؤ۔