صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 424 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 424

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۲۴ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد انسان ان سے بچے۔حرام اور ممنوع میں وہی نسبت ہے جو فرض اور واجب میں ہے۔پس جن اشیاء کو قرآن کریم نے حرام کہا ہے ان کی حرمت زیادہ سخت ہے اور جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے وہ حرمت میں ان سے نسبتاً کم ہیں۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے احکام میں ان کی مثال فرض اور واجب اور سنت کی سی ہے۔حرام تو بمنزلہ فرض کے ہے اور منع بمنزلہ واجب کے۔جس طرح فرض اور واجب میں فرق ان کی سزاؤں کے لحاظ سے کیا جاتا ہے اسی طرح جن اشیاء کی حرمت قرآن کریم میں آئی ہے اگر انسان اُن کو استعمال کرے گا تو اس کی سزا زیادہ سخت ہو گی اور جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ان کے استعمال سے اس سے کم درجہ کی سزا ملے گی لیکن بہر حال دونوں جرم قابل گرفت اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہوں گے۔حرام فعل کا ارتکاب کرنے سے انسان کے ایمان پر اثر پڑتا ہے اور اس کا نتیجہ لاز مابدی ہوتی ہے۔لیکن دوسری چیزوں کے استعمال کا نتیجہ لاز مابدی اور بے ایمانی کے رنگ میں نہیں نکلتا۔چنانچہ دیکھ لو۔مسلمانوں میں سے بعض ایسے فرقے جو ان اشیاء کو مختلف تاویلات کے ذریعے جائز سمجھتے اور انہیں کھالیتے ہیں جیسے مالکی ان کا اثر ان کے ایمان پر نہیں پڑتا۔اور ان میں بے ایمانی اور بدی پیدا نہیں ہوتی بلکہ گذشتہ دور میں تو ان میں اولیاء اللہ بھی پیدا ہوتے رہے ہیں۔لیکن خنزیر کا گوشت یا مردار کھانے والا کوئی شخص ولی اللہ نظر نہیں آئے گا۔پس حرمت کے بھی مدارج ہیں اور ان چاروں حرام چیزوں کے سوا باقی تمام ممنوعات ہیں جن کو عام اصطلاح میں حرام کہا جاتا ہے ورنہ قرآنی اصطلاح میں وہ حرام نہیں ہیں۔دراصل ایک حرمت ایسی ہے جو صرف لغتاً حرمت کہلاتی ہے اس لحاظ سے ہر وہ چیز جس سے کسی دوسرے کو منع کر دیا جائے حرام کہلائے گی۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی منع کی ہوئی چیزیں ہیں لیکن قرآنی اصطلاح میں صرف یہی چار چیزیں حرام ہیں۔( تفسير كبير ، سورة البقرة زير آيت إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَة۔۔۔جلد دوم صفحه ۳۴۰،۳۳۹) : حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں: ”مردار کھانے سے اللہ تعالیٰ نے اس لیے روکا ہے کہ مردار کا خون بہت سی زہروں پر مشتمل ہوتا ہے اور مُردار کی نسبت اغلب گمان یہی ہوتا ہے کہ وہ بیماری سے باز ہر سے یا