صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 425 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 425

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۲۵ -۷۲ - كتاب الذبائح والصيد زہر یلے جانوروں کے کاٹے سے مراہ یا بالکل بوڑھا ہو کر مرا ہو۔اور یہ سب جانتیں ایسی ہیں کہ ان میں جانور کا گوشت استعمال کرنے کے قابل نہیں رہتا اور اگر گر کر یا کسی اور صدمہ سے مرا ہو تب بھی قاعدہ ہے کہ سخت صدمہ کا اثر فوراخون میں زہر پیدا کر دیتا ہے پس در حقیقت کھانے کے قابل صرف وہی گوشت ہوتا ہے جو ذبیح کئے ہوئے جانور کا ہو۔ورنہ اُس کا لاز مآبد اثر ہو گا۔اور یہ چیز صرف خیالی نہیں بلکہ موجودہ طب نے بھی ثابت کر دیا ہے که خواہ کوئی جانور عمر طبعی پا کر بوجہ بڑھا ہونے کے مرے یا کسی اونچے مقام سے گر کر ہلاک ہو یا کسی صدمہ سے جانبر نہ ہو سکے یا کسی بیماری کا شکار ہو اس کے خون میں کئی قسم کے خطرناک جراثیم اور کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔چنانچہ میڈیکل جیورس پروڈنس MIDICAL JURISPRUDENCE جو ڈاکٹری کی ایک مشہور کتاب ہے اس میں لکھا ہے کہ مردہ کے گوشت میں بہت جلد کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں جن سے ایسے زہر پیدا ہوتے ہیں جنہیں CADAVERICE AL-KALIDES یا PTOMAINES کہتے ہیں۔یہ زہر سخت مہلک ہوتے ہیں اور ان کا اثر کچلا اور ایٹو پین کے مشابہ ہوتا ہے۔(صفحه ۵۲۲) اسی طرح خون بھی مختلف قسم کی زہروں پر مشتمل ہوتا ہے اور صحت کے لئے سخت مضر چیز ہے۔فزیالوجی والے لکھتے ہیں کہ خون انسانی بدن میں ایک ایسے گڑھے کی طرح ہوتا ہے جس میں بے حد مچھلیاں اور مینڈک اور کیڑے ہر وقت اپنی غذا بھی اُس سے لیتے ہوں اور اپنا فضلہ بھی اُس میں پھینکتے ہوں۔کیونکہ اُس میں بے انتہا سیلز تیر رہے ہیں اور ہر وقت اُسے خراب کر رہے ہیں۔یہ خون کا ہی کام ہے کہ وہ ٹشوز سے مردہ مادہ کو ان آرگنز تک لے جاتا ہے جو اُسے خون سے صاف اور علیحدہ کرتے ہیں۔پس خون مختلف قسم کے زہروں اور رڈی مادوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور جسم کے اندر خدا تعالیٰ نے اُس کے صاف کرنے کے لئے کئی سامان بنائے ہوئے ہیں لیکن جب وہ جسم سے باہر آجائے تو اُس کے زہر اُس کے اندر ہی رہ جاتے ہیں اور اس کا استعمال صحت کے لئے سخت مضر ہوتا ہے۔اور چند منٹ میں خراب ہو جاتا ہے بلکہ ہوا کے کیڑے مل کر بہت جلد نشو و نما پا جاتے ہیں۔چنانچہ وہ گوشت جس سے خون دھویا جائے دیر تک رہتا ہے یہ نسبت اس کے جسے خون لگا ہوا ہو۔پس خون کا بد اثر بھی ظاہر ہے۔“ ( تفسير كبير ، سورة البقرة زير آيت إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ المَيِّتَة۔۔۔جلد دوم صفحه ۳۴۰، ۳۴۱)