صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 423
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۲۳ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد (جانور) اور جسے (کسی) درندہ نے کھا لیا ہو، سوائے اس کے جسے (مرنے سے پہلے) تم نے ذبح کر لیا ہو ، اور جس (جانور) کو کسی بت کے تھان پر ذبح کیا گیا ہو۔حرام کیا گیا ہے اور تیروں کے ذریعہ سے حصہ معلوم کرنا ( بھی ) ایسا کام کر نا نا فرمانی میں داخل ہے۔جو لوگ کا فر ہیں وہ آج تمہارے دین ( کو نقصان پہنچانے) سے نا امید ہو گئے ہیں۔اس لئے تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔میته کے متعلق لغت میں لکھا ہے : الْمَيْتَةُ مُؤنَّتُ الْبَيْتِ وَالْمَيْتَةُ مَالَمْ تَلْعَقْهُ الزَّكَاةُ، وَالْحَيَوَانُ الَّذِي يَمُوتُ حَنْفَ الفِهِ- (اقرب الموارد-موت) مَيْتَةُ سے مراد ہر ایسی چیز ہے جو بغیر کسی بیرونی سبب کے مرے اور اُسے ذبح نہ کیا جائے۔مَيْتَةٌ مَیت کا مونث ہے۔اور شریعت اسلام کے نزدیک اُسے بھی مر دار ہی کہتے ہیں جو ذبح نہ ہو خواہ ایسا جانور خود بخود مر جائے یا کوئی دوسرا اُسے مار دے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ امر یا د رکھنا چاہیے کہ شریعتِ اسلامیہ میں جن اشیاء کے کھانے سے منع کیا گیا ہے۔وہ دو قسم کی ہیں۔اول حرام دوم ممنوع۔لُغۂ تو حرام کا لفظ دونوں قسموں پر حاوی ہے لیکن قرآن کریم نے اس آیت میں صرف چار چیزوں کو حرام قرار دیا ہے یعنی مردار ، خون، سور کا گوشت اور وہ تمام چیزیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سواکسی اور کے نام سے نامزد کر دیا گیا ہو ان کے سوا بھی شریعت میں بعض اور چیزوں کے استعمال سے روکا گیا ہے۔لیکن وہ چیزیں اشیاء ممنوعہ کی فہرست میں تو آئیں گی۔قرآنی اصطلاح کے مطابق حرام نہیں ہوں گی۔جیسے حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نَهى عَن كُلّ ذِي تَابِ مِنَ السَّبَاعِ وَعَنْ كُلِّ ذِى مخلب من الطیر یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلیوں والے درندے اور پنجوں والے پرندے کو کھانا ممنوع قرار دیا ہے۔اسی طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ ملی عن لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔یہ احکام اس آیت یا دوسری آیات کے مضمون کے مخالف نہیں ہیں۔کیونکہ جس طرح اوامر کئی قسم کے ہیں بعض فرض ہیں بعض واجب ہیں اور بعض سنت ہیں۔اسی طرح نہی بھی کئی اقسام کی ہے۔ایک نہیں محترمہ ہے اور ایک نہیں مانعہ ہے اور ایک نہی تنزیہی ہے۔پس حرام چار اشیاء ہیں، باقی ممنوع ہیں اور ان سے بھی زیادہ وہ ہیں جن کے متعلق نہی تنزیہی ہے کہ (مسلم، کتاب الصيد والذبائح، باب تحريم أكل كل ذي تابِ مِنَ السَّبَاعِ وَكُلِّ ذِي خَلبِ مِنَ الطَّيْرِ ) (مسلم، کتاب الصيد والذبائح، بَابُ تَحْرِيمِ أَكُلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ)