صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 421
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۲۱ بَاب ١ : التَّسْمِيَةُ عَلَى الصَّيْدِ شکار پر اللہ کا نام لینا ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد {وَقَوْلُ اللهِ وَحُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ اور اللہ تعالی کا یہ فرمانا: تم پر مردار حرام کئے گئے إِلَى قَوْلِهِ فَلَا تَخْشَوهُم وَ اخْشُونِ 1 ہیں۔اس لیے تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔(المائدة: ٤) وَقَوْلُهُ تَعَالَى اَيُّهَا اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اے ایماندارو! اللہ ایک الَّذِينَ آمَنُوا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللهُ بِشَيْءٍ مِّنَ (حقیر) چیز یعنی شکار کے ذریعہ سے جس تک تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی رسائی ہوگی تمہاری الصَّيْدِ تَنالُه أَيْدِيكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ إِلَى آزمائش کر کے رہے گا۔تو اسے درد ناک عذاب قَوْلِهِ عَذَابُ اليه (المائدة: ٩٥) ہو گا۔اور اللہ جل ذکرہ کا یہ فرمانا: تمہارے لیے وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ أُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيمَةُ چرندوں (کی قسم) کے چار پائے سوائے ان کے الْأَنْعَامِ إِلا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ إِلَى قَوْلِهِ جو تمہیں ( قرآن میں ) پڑھ کر سنائے جائیں گے فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَونِ (المائدة: ٢-٤ حلال قرار دیئے گئے ہیں۔۔۔اس لیے تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔اور حضرت ابن عباس نے وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ الْعُقُودُ الْعُهُودُ مَا کہا: عقود سے مراد عہد و پیمان ہیں یعنی جو باتیں أُحِلَّ وَحُرِّمَ إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُم جائز کی گئیں اور جو حرام کی گئیں۔الا مایتلی الْخِنْزِيرُ۔يَجْرِمَنَّكُمْ يَحْمِلَنَّكُمْ شَنَانُ عليكم سے مراد خنزیر ہے۔يَجْرِمَنَّكُمْ کے معنی عَدَاوَةُ الْمُنْخَنِقَةُ تُخْنَقُ فَتَمُوتُ ہیں تمہیں اکسائے۔شنان کے معنی ہیں عداوت۔الْمَوْقُوذَةُ تُضْرَبُ بِالْخَشَبِ يُوقِدُهَا الْمُنْخَنِقَةُ جس کا گلا گھونٹیں اور وہ مر جائے۔فَتَمُوتُ وَ الْمُتَرَدِّيَةُ تَتَرَدَّى مِنَ الْمَوْقُوذَةُ جس کو لکڑی ماری جائے اور وہ اس کو الْجَبَلِ۔وَالنَّطِيحَةُ تُنْطَحُ الشَّاةُ۔فَمَا ایسی لگے کہ وہ مر جائے اور المتردية سے مراد وہ جانور ہے جو پہاڑ سے گر کر مر جائے اور النَّطِيحَةُ أَدْرَكْتَهُ يَتَحَرَّكُ بِذَنَبِهِ أَوْ بِعَيْنِهِ فَاذْبَحْ جس کو بکری سینگ مارے ( اور وہ مرجائے۔) ان جانوروں میں سے جس کو تم ایسی حالت میں پاؤ کہ وَكُن۔وہ اپنی دم یا آنکھ ہلا رہا ہو اس کو ذبح کر لو اور کھاؤ۔یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء 9 حاشیہ صفحہ ۷۴۱) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔