صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 420 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 420

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۲۰ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد ہے کبھی پیٹھے پر لگتا ہے تو کبھی گردن پر کبھی شکار زخمی ہو کر اتنی دور چلا جاتا ہے کہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے گھنٹوں میں ملتا ہے اور پھر مراہوا، اور کبھی چوٹ لگتے ہی آنا فانا اس کا دم نکل جاتا ہے یا غلیلہ سے پرندہ کا سر ہی اُڑ کر صاف الگ جا پڑتا ہے غرضیکہ آلہ شکار اور فاصلہ اور خود جانور کے آزاد اور وحشی ہونے کی وجہ سے نتائج اس قدر مختلف ہو جاتے ہیں کہ شکار پر مذبح کے ذبیجوں کا حکم ہر گز نہیں لگ سکتا۔اور اگر وہ حکم لگایا جائے تو اکثر شکار ضائع ہو جائے گا اور بہت سی جانیں بے کار ماری جائیں گی اور ایک اسراف یا قتل ناحق کی صورت پیدا ہو جائے گی۔پس مذہب جو مجموعہ قواعد و ضوابط کا نام ہے وہ ضرور اس کے لیے ان قواعد سے کسی قدر مختلف قواعد تجویز کرے گا جو پالتو اور گھریلو جانوروں کے لیے مقرر ہیں اور جن کے لیے فقط اتنا کافی ہے کہ پکڑ کر لٹا دیا اور گلے پر چھری پھیر دی لیکن شکار کو تو آپ پکڑ کر چھری نہیں پھیر سکتے نہ یہ آپ کے اختیار میں ہے کہ اس کو ایسی ضرب لگائیں کہ وہ ناکارہ تو ہو جائے مگر مرے نہیں۔اس لیے شریعت اسلامیہ نے کمال حکمت اور نرمی سے قصر نماز کی طرح دوران شکار میں مر جانے والے جانوروں کے متعلق بھی کچھ رعایت دے دی ہے جو عام ذبیجوں کو نہیں دی جاسکتی۔اسی طرح شریعت نے گھریلو جانوروں سے بھی بعض وہ سختیاں اٹھا دی ہیں جو شکار کے جانوروں کیلئے ضروری اور لابدی ہیں۔مثلاً آپ ہر شکار کو غلیل تیر یا بندوق سے مار سکتے ہیں اور اسے اس طرح گرا کر ذبح کر سکتے ہیں بر خلاف اس کے اگر آپ گھر کے بکرے یا مرغ کو سامنے رکھ کر اس پر تیر اندازی کریں یا بندوق کا نشانہ بنائیں اور جب وہ گر پڑے تو اسے ذبح کر لیں تو یہ ظلم ہو گا اور شریعت نے صاف الفاظ میں اس سے منع فرمایا ہے اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ گھر یلو ذبیحہ کے احکام شکار پر نہیں لگتے اور شکار کے احکام گھر یلو ذبیحہ پر نہیں لگتے۔دونوں بالکل الگ الگ چیزیں ہیں۔کیونکہ حالات مختلف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ شکار کے احکام کو شکار کے مر جانے کی صورت میں شریعت نے نرم کر دیا ہے گھر کے مقبوضہ جانوروں کا ذبیح تو ایک قاعدہ کے ماتحت آسکتا ہے مگر زخمی شکار کو ہمیشہ ہی زندہ حاصل کر لینا اور ذبح سے پہلے اسے مرنے نہ دینا انسان کے اختیار میں نہیں ہے اس لیے نرمی اور رعایت اور قواعد کی تبدیلی ضروری تھی۔(روز نامه الفضل قادیان دارالامان مورخه ۵ اگست ۱۹۴۴ صفحه ۳ جلد ۳۲ نمبر ۱۸۲)