صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 419
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۱۹ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ٧٢- كِتابَ الذَّبَائِحِ وَالصَّيْد ذبیحہ اور شکار کے احکام 0000000 کتاب الذبائح ۳۸ ابواب اور ۹۳ احادیث پرمشتمل ہے۔کتاب الذبائح کے مطالعہ میں قارئین کو یہ بات ملحوظ رکھنی ضروری ہے کہ اسلام نے پالتو جانوروں کے ذبیحہ اور شکار میں فرق کیا ہے۔اور دونوں کے متعلق الگ الگ احکام دیئے ہیں جو ان کے مناسب حال اور عین عقل کے مطابق ہیں۔اس کے متعلق حضرت سید میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ کا ایک مفید نوٹ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔حضرت میر صاحب فرماتے ہیں: شکار کے احکام میں اور گھریلو جانوروں کے احکام میں شریعت نے فرق رکھا ہے اور وہ عین عقل کے مطابق ہے۔مثال کے طور پر ذبیحہ اور شکار میں کچھ اسی قسم کا تفاوت ہے جیسا کہ حضر کی نماز اور سفر کی نماز میں یا جیسا کہ تندرست کی نماز اور مریض کی نماز میں۔ایک شخص حضر میں چار رکعتیں پڑھتا ہے تو سفر والا دو رکعتیں اور تندرست کھڑا ہو کر پڑھتا ہے تو بیمار بیٹھ کر اور تیم کر کے پڑھتا ہے۔اس کی وجہ ظاہر اور مطابق عقل ہے یعنی یہ کہ حالات مختلف ہیں سفر اور مرض میں بعض دقتوں اور تکالیف کا سامنا ہوتا ہے اس لیے مذہب کی طرف سے رعایت ہونی ضروری ہے۔اور یہی اسلام کی فضیلت ہے کہ حالات کے مطابق احکام دیتا ہے کیونکہ یسر اور آسانی اس کا بنیادی اصول ہے نہ کہ تنگی اور سختی۔پس آپ سمجھ لیں کہ اس معاملہ میں بھی جنگی تیتر اور چیز ہے اور گھر کی مرغی اور چیز۔گھریلو جانور چونکہ ہمیشہ اپنے قبضہ میں اور مجبور ہوتا ہے اس لیے اس کے ذبح کے لیے الگ اور مخصوص احکام ہیں اور اس کا ذبح ہمیشہ ایک ہی طریقہ پر ہو گا۔اور ہونا چاہیے بر خلاف اس کے شکار ایک بھاگنے والا اور ڈرنے والا اور وحشی جانور ہوتا ہے۔اس لیے کئی طرح اس کا مارا جانا جائز ہے۔غلیل سے بھی ، بندوق سے بھی، تیر سے بھی، نیزہ سے بھی اور کئی اور قسم کے ہتھیاروں اور آلات سے بھی بلکہ چیتے، کتے ، باز اور شکرہ سے بھی۔اور ان میں سے ہر قسم کا ہتھیار الگ طرح کا زخم اور مختلف قسم کی چوٹ شکار کے جسم پر لگاتا ہے ساتھ ہی یہ کہ شکار بسبب آزاد اور وحشی ہونے کے ان ہتھیاروں کی ضربات کو نئے نئے رنگ میں برداشت کرتا ہے۔کبھی تیر اس کی آنکھ میں لگتا ہے تو کبھی اس کا پیٹ پھاڑ دیتا