صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 415
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۱۵ ا - كتاب العقيقة ٥٤٧٢ : وَقَالَ أَصْبَغُ أَخْبَرَنِي ابْنُ ۵۴۷۲: اور اصبغ ( بن فرج) نے کہا: مجھے (عبد الله ) وَهْبٍ عَنْ جَرِيْرِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ بن وہب نے جریر بن حازم سے ، جریر نے ایوب السَّحْتِيَانِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيْرِيْنَ سختیانی سے ، ایوب نے محمد بن سیرین سے روایت حَدَّثَنَا سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّيُّ قَالَ کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ ہم سے حضرت سلمان سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بن عامر ضبی نے بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے يَقُوْلُ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيْقَةٌ فَأَهْرِيقُوْا عَنْهُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے : لڑکے کے ساتھ عقیقہ چاہیے اور اس کی دَمًا وَأَمِيْطُوْا عَنْهُ الْأَذَى۔طرفة: ٥٤٧١۔طرف سے خون بہاؤ اور تکلیف دینے والی شے کو اس سے دور کرو۔حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ عبد الله بن ابی الاسود نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا قُرَيْسُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ حَبِيْبِ قريش بن انس نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حبیب بْنِ الشَّهِيدِ قَالَ أَمَرَنِي ابْنُ سِيْرِيْنَ بن شہید سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ (محمد) أَنْ أَسْأَلَ الْحَسَنَ مِمَّنْ سَمِعَ حَدِيثَ بن سیرین نے مجھے حکم دیا کہ میں حسن (بصری) الْعَقِيْقَةِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِنْ سَمُرَةَ بْنِ سے پوچھوں: انہوں نے عقیقہ کی حدیث کس سے سنی؟ میں نے ان سے پوچھا۔انہوں نے کہا: جُنْدَبٍ۔حضرت سمرہ بن جندب سے۔تشريح۔إمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الصَّبِيِّ فِي الْعَقِيقَةِ: عقیقہ کرتے وقت بچے سے تکلیف رو شے کو دور کرنا۔عقیقہ کا لفظ عقی سے ہے جس کے معنے ہیں اس نے ذبح کیا، اس نے کاٹا۔(اقرب الموراد عق) بچہ کی ولادت کا وقت بچہ اور اس کی ماں دونوں کے لیے نازک اور خطرات سے پر ہوتا ہے۔بچہ کی بخیر و عافیت پیدائش پر خوش ہونا اور خدا کے فضل اور عطا پر اس کا شکر ادا کرنا فطرتی بات ہے۔بچے کی پیدائش کے ساتویں روز شکرانے کے طور پر جانور ذبح کرنا، خود کھانا اور رشتہ داروں کو کھلانا اور بالخصوص غریبوں کو گوشت میں سے حصہ دینا عقیقہ کہلاتا ہے۔پیدائش کی خوشی میں مٹھائی تقسیم کرنا منع نہیں لیکن اس کو عقیقہ کا بدل بنا لینا جائز نہیں۔کئی لوگ مٹھائی پر تو اتنا