صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 416
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۱۶ ا - كتاب العقيقة زور دیتے ہیں کہ گویا فرض ہے اور عقیقہ کو بالکل بھول جاتے ہیں یہ مناسب نہیں۔خدا اور رسول کے احکام کو اولیت دینی چاہیے۔عقیقہ میں بچے کے سر کے جو بال اتارے جاتے ہیں۔ان کے وزن کے برابر چاندی یا سونا بطور صدقہ بھی دیا جاتا ہے۔بہت سے مذاہب میں بالوں کو منڈوانا اپنے آپ کو خدا کے لیے وقف کر دینے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔نوزائیدہ بچہ کے بال منڈوانے سے بھی یہی مراد ہے کہ اے خدا ہم اس بچہ کو تیری غلامی میں دیتے ہیں۔اسے ساری عمر اپنا بندہ (غلام) ہی بنائے رکھنا یہ شیطان یا سفلی خواہشات کا غلام نہ بنے۔تیرا اور تیرے رسول کا غلام بنے۔عقیقہ کی اہمیت لڑکے کے لیے بنسبت لڑکی کے زیادہ ہے۔لڑکے پر بیوی بچوں اور خاندان کی کفالت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور جتنا کسی پر بوجھ ہو اتنا ہی اس کے گرنے کا امکان ہوتا ہے۔نیز دیگر ذمہ داریوں کے پیش نظر لڑکے کی طرف سے دو بکرے ذبح کیے جاتے ہیں اور لڑکی کی طرف سے ایک۔لیکن حالات کے پیش نظر یہ بھی جائز ہے کہ لڑکے اور لڑکی دونوں کی طرف سے ایک ایک جانور ہی ذبح کیا جائے۔حدیث میں آتا ہے کہ بچہ جب سات روز کا ہو جائے تو اس کا نام رکھا جائے اس کے بال منڈوائے جائیں اور قربانی دی جائے۔نیز ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے حضرت حسن اور حضرت حسین پید اہوئے تو ان کا عقیقہ کیا گیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع سے سوال ہوا کہ عقیقہ کیا ہوتا ہے اور لڑکے کے لیے دو بکرے اور لڑکی کے لیے ایک بکرا کیوں ہے۔اس پر فرمایا: ”عقیقہ کروانے کے تو بہت سے فوائد ہیں۔جب سر مونڈتے ہیں تو بہتر بال نکل آتے ہیں اور سر مونڈنا وقف کرنے کی علامت ہوتا ہے۔دنیا کے سارے مذاہب میں ہندوؤں میں، بدھوں میں، عیسائیوں میں سر مونڈتے ہیں یعنی خدا کے حضور پیش کر دیا۔حج میں بھی سر مونڈتے ہیں تو یہ جو سر منڈانا ہے تو یہ دراصل وقف کی روح ہے۔اور ماں باپ جب عقیقہ کرتے ہیں تو گویا خدا کے حضور اپنے بچے کو پیش کر دیتے ہیں۔اور دو اور ایک بکروں کی جو نسبت ہے وہ اس لیے کہ مردوں پر ذمہ داری ہے، بیویوں کو پالیں۔بیویوں پر ذمہ داری نہیں ہے کہ مردوں کو پالیس تو بڑی حکمت کی باتیں ہیں۔“ لجنہ سے ملاقات بتاریخ ۶ فروری ۲۰۰۰، روزنامه الفضل ربوه، ۲۵ نومبر ۲۰۰۰) ایک صاحب کا حضرت اقدس کی خدمت میں سوال پیش ہوا کہ اگر کسی کے گھر میں لڑکا پیدا ہو تو کیا یہ جائز ہے کہ وہ عقیقہ پر صرف ایک ہی بکر از بیج کرے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جواب میں فرمایا کہ ”عقیقہ میں لڑکے کے واسطے دو بکرے ہی ضروری ہیں۔لیکن یہ اس کے واسطے ہے جو (سنن ابن ماجه، کتاب الذبائح، باب العقيقة) (سنن ابی داود کتاب الضحايا، باب في الحقيقة)