صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 408 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 408

البخاری جلد۱۳ تشریح ۴۰۸ ٧٠ - كتاب الأطعمة فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: جب تم کھا چکو تو پھر منتشر ہو جاؤ۔زیر باب روایت میں حضرت انسؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت زینب سے شادی اور ولیمہ کے ذکر میں پردے کے احکام کے نزول کا ذکر کیا ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں: آپ نے اپنی ساری بیویوں میں سے حضرت زینب کا ولیمہ زیادہ بڑے پیمانے پر کیا۔اس وقت تک چونکہ پر دے کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے صحابہ بے تکلف آپ کے گھر کے اندر ہی آگئے اور ان میں بعض لوگ کھانے سے فارغ ہو کر بھی ادھر ادھر کی باتوں میں مشغول ہو کر وہیں بیٹھے رہے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوئی۔مگر چونکہ آپ کی طبیعت میں حیا کا مادہ بہت تھا آپ شرم کی وجہ سے کچھ کہہ نہیں سکتے تھے اور ان صحابہ کو باتوں کی مصروفیت میں خود خیال نہ رہا۔نتیجہ یہ ہوا کہ بہت دیر ہو گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت سا قیمتی وقت ضائع ہو گیا۔آخر آپ خود اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کو اٹھتے دیکھ کر اکثر صحابہ بھی ساتھ ہی اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ سے رخصت ہو کر مکان سے نکل گئے لیکن تین مشخص پھر بھی بیٹھے ہوئے باتیں کرتے رہے۔یہ دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے حجرے کی طرف تشریف لے گئے۔لیکن جب تھوڑی دیر کے بعد آپ واپس تشریف لائے تو ابھی تک یہ لوگ وہیں بیٹھے تھے اسی طرح آپ کو دو تین دفعہ آنا جانا پڑا اور آخر کار جب یہ لوگ آپ کے مکان سے چلے گئے تو آپ واپس تشریف لے آئے بعض اوقات الہی احکام کے نزول کے لئے بھی محرکات پیدا ہو جاتے ہیں یعنی حکم نے تو بہر حال نازل ہونا ہوتا ہے مگر کوئی واقعہ اس کا وقتی محرک بن جاتا ہے۔چنانچہ یہی واقعہ پر دے کے ابتدائی احکامات کے نزول کا تحریکی سبب بن گیا اور پر دے کے متعلق وہ ابتدائی آیات نازل ہوئیں جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات پر پردے کی پابندی عائد کی گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں غیر محرم لوگوں کی آزادانہ آمد ورفت رک گئی۔اس کے بعد آہستہ آہستہ پر دے کے متعلق مزید احکامات نازل ہوتے رہے حتی کہ بالاآخر اس نے وہ صورت اختیار کر لی جو اس وقت قرآن شریف و حدیث میں موجود ہے۔اور جس کی رو سے مسلمان عورت کی جائز اور ضروری آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے عورت کو غیر محرم مردوں کے سامنے اپنے بدن اور