صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 406 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 406

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۰۶ ٧٠ - كتاب الأطعبة قَالَ وُهَيْبٌ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ وہیب اور یحی بن سعید نے ہشام سے روایت هِشَامٍ إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ طرفه ٦٧١ - کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے: جب شام کا کھانا رکھا جائے۔تشريح۔إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ فَلَا يَعْجَلْ عَن عَشَائِهِ: جب شام کا کھانا سامنے آئے تو پھر شام کے کھانے کو چھوڑ کر نماز کی جلدی نہ کرے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ کھانا سامنے آجانے کے بعد خیال کھانے کی طرف رہے گاپس پہلے کھانا کھا کر نماز پڑھی جائے تاکہ طبیعت میں یکسوئی پیدا ہو۔اس حدیث میں جو شام کے کھانے کا خاص طور پر ذکر ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اول تو دو پہر کا کھانا نماز ظہر سے اس قدر نہیں ٹکراتا جس قدر کہ شام کا کھانا عشاء کی نماز سے ٹکراتا ہے۔دوسرے اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ رات کو سونے سے کافی پہلے کھانا کھا لینا چاہیئے تا نیند پریشان نہ ہو اور بدہضمی کی شکایت پیدا نہ ہو۔اگر شام کے کھانے کو عشاء کی نماز کے بعد کے لئے اٹھا رکھا جائے تو چونکہ اسلام عشاء کے بعد جلد سونے کی ہدایت دیتا ہے تا تہجد کے لئے اٹھنے میں آسانی پیدا ہو شام کے کھانے اور سونے کے وقت میں تھوڑا فرق رہ جائے گا اور صحت خراب ہو گی۔“ ( تفسیر کبیر جلد اوّل، سورة البقرة زير آيت ويُقِيمُونَ الصَّلوة۔۔۔صفحه ۱۰۸،۱۰۷) بَاب ٥٩ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا (الأحزاب: ۵۴) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: جب تم کھا چکو تو پھر منتشر ہو جاؤ ٥٤٦٦ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۵۴۶۶: عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا کہ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ حَدَّثَنِي يعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ میرے أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ باپ نے مجھے بتایا۔انہوں نے صالح (بن کیسان) أَنَسًا قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ حضرت انس بن مالک) کہتے تھے: میں حجاب