صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 402
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۰۲ ٧٠ - كتاب الأطعمة رم مَرَّةً إِذَا رَفَعَ مَائِدَتَهُ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ جب آپ کھانے سے فارغ ہوتے۔ اور ایک بار الَّذِي كَفَانَا وَأَرْوَانَا غَيْرَ مَكْفِي وَلَا حضرت ابو امامہ نے یوں کہا: جب آپ اپنے مَكْفُورٍ۔ وَقَالَ مَرَّةً الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّنَا دسترخوان کو اٹھاتے تو آپ فرماتے : سب شکر اللہ غَيْرَ مَكْفِي وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنی ہی کا ہے جس نے ہمیں کافی دیا اور پیٹ بھر کر کھایا پلا یا ایسا شکر نہیں کہ یہیں پر بس ہو اور نہ ایسا شکر رَبَّنَا ۔ طرفه: ٥٤٥٨ ہے کہ جس کی پھر ناشکری کی جائے۔ اور کبھی آپ یوں فرماتے : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اے ہمارے رب۔ ایسا شکر نہیں جو یہیں (کھانے پر ) بس ہو اور نہ ایسا کہ پھر نہ کیا جائے اور نہ ایسا کہ جس کی حاجت نہ رہے ، اے ہمارے رب۔ باب ٥٥ : الْأَكْلُ مَعَ الْخَادِمِ خادم کے ساتھ کھانا کھانا ٥٤٦٠ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ۵۴۶۰ : حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ زِيَادٍ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن زیاد سے، ابن قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ زياد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَتَى سنا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ فَإِنْ لَّم کی۔ آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے پاس يُجْلِسُهُ مَعَهُ فَلْيُنَاوِلَهُ أَكْلَهُ أَوْ اس کا خادم اس کا کھانا لائے اگر وہ اس کو اپنے ساتھ نہ بٹھائے تو اسے چاہیے کہ وہ ایک نوالہ یا أَكْلَتَيْنِ أَوْ لُقْمَةً أَوْ لُقْمَتَيْنِ فَإِنَّهُ دو نوالے یا فرمایا ایک لقمہ یا دو لقمے اسے بھی وَلِيَ حَرَّهُ وَعِلَاجَهُ۔ طرفه ٢٥٥٧- دے دے کیونکہ اس نے اس کے تیار کرنے میں محنت اور گرمی برداشت کی ہے۔