صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 401
صحیح البخاری جلد ۱۳ ٧٠ - كتاب الأطعبة النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَجِدُ بعد وضو کے متعلق پوچھا جو آگ سے پکی ہوں تو مِثْلَ ذَلِكَ مِنَ الطَّعَامِ إِلَّا قَلِيْلًا فَإِذَا انہوں نے کہا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ نَحْنُ وَجَدْنَاهُ لَمْ يَكُنْ لَنَا مَنَادِيْلُ إِلَّا میں ہمیں تو ایسا کھانا کم ہی ملتا تھا اور جب ہمیں ملتا أَكَفَّنَا وَسَوَاعِدَنَا وَأَقْدَامَنَا ثُمَّ نُصَلِّي بھی تو ہمارے پاس سوائے ہماری ہتھیلیوں، بازوؤں وَلَا نَتَوَضَّأُ۔اور پاؤں کے اور کوئی رومال نہ ہوتے۔پھر ہم نماز پڑھتے اور وضو نہ کرتے۔باب ٥٤ : مَا يَقُوْلُ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ جب کھانے سے فارغ ہو تو کیا کہے ٥٤٥٨: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا :۵۴۵۸ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے سُفْيَانُ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ہمیں بتایا۔انہوں نے ثور (بن یزید) سے ،ثور نے عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله خالد بن معدان سے، خالد نے حضرت ابو امامہ سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ مَائِدَتَهُ قَالَ روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيْبًا مُبَارَكًا فِيْهِ جب آپ دستر خوان کو اٹھاتے تو آپ فرماتے: غَيْرَ مَكْفِي وَلَا مُوَدَّعِ وَلَا مُسْتَغْنَى اللہ ہی کا شکر ہے، بہت بہت شکر ، خالص شکر جو برکتوں کا موجب ہو ایسا شکر نہیں جو یہیں (کھانے پر) بس ہو اور نہ ایسا کہ پھر نہ کیا جائے اور نہ ایسا کہ جس کی حاجت نہ رہے، اے ہمارے رب۔عَنْهُ رَبُّنَا۔طرفه ٥٤٥٩- ٥٤٥٩: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ - ثَوْرِ ۵۲۵۹: ابو عاصم (ضحاک بن مخلد) نے ہم سے بْنِ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ بیان کیا۔انہوں نے ثور بن یزید سے، ٹور نے أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ خالد بن معدان سے، خالد نے حضرت ابو امامہ سے وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ وَقَالَ روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ