صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 400 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 400

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۰۰ ٧٠ - كتاب الأطعبة طرح اور سینکڑوں مفید اشیاء ہیں۔منجملہ ان کے ایک یہی کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنے کا مسئلہ ہے۔انسان کو تو حضرت سید المرسلین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ بذریعہ و حی معلوم ہوالیکن حیوانات کو فطرت اور خالصتاً عنایت کیا گیا۔ہم ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں کہ بلی جب کچھ کھاتی ہے تو دن بھر بیٹھ کر چاٹتی رہتی ہے۔اسی طرح کتا بھی ہاتھ اور پنجے چاہتا ہوا پایا گیا ہے بلکہ تمام جانور یکساں طور پر اس فعل کا ارتکاب کرتے ہیں اور کھانے کے بعد کرتے ہیں اور صرف انگلیاں ہی چاہتے ہیں۔تو صاف معلوم ہوا کہ یہ فعل ہاضمہ کی ترقی کے لیے نہایت مفید ہے بلکہ لا بدی ہے۔اس لیے حیوانات لا یعقل کو فطر ت بتلایا گیا اور انسان کو وحی بتایا گیا۔کیسا ہی پیارا رسول ہے جو ایسی مفید اور سہل الحصول علاج ہمیں بتا گیا۔“ (روز نامه الفضل ۱۱ مئی ۲۰۱۲، صفحه ۳ تا ۶) فلا يمسخ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا : انا ہاتھ نہ پونچھے جب تک کہ ان کو چاٹ نہ لے یا فرمایا: ان کو چٹا نہ دے۔شارحین نے کسی سے چٹوانے کے متعلق لکھا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے خادم سے یا اپنے بیٹے سے یا اس شخص سے جس کو انگلیوں کے چاٹنے سے گھن نہ آئے چٹوائے۔(فتح الباری جزء ۹ صفحہ ۷۱۵) مگر یہ بات نامناسب اور شرف انسانی کے برعکس نظر آتی ہے۔اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ انسان کھانا کھانے کے بعد اپنی انگلیاں خود بھی چاٹ کر صاف کرے اور اپنے زیر کفالت اور زیر تربیت افراد کو بھی یہ بات بتائے کہ وہ اپنی اپنی انگلیاں چاٹ کر صاف کر لیں تا کہ ان طبی فوائد و دیگر مقاصد کو حاصل کرنے والے بنیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں پنہاں ہیں۔بَاب ٥٣ : الْمِنْدِيْلُ رومال ٥٤٥٧: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيْمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ۵۴۵۷: ابراہیم بن منذر نے ہمیں بتایا۔انہوں قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحِ قَالَ نے کہا کہ محمد بن فلیح نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ نے کہا: مجھے میرے والد نے بتایا۔ان کے والد عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ الله نے سعید بن حارث سے، سعید نے حضرت جابر عَنْهُمَا أَنَّهُ سَأَلَهُ۔عن الْوُضُوْءِ مِمَّا بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں مَسَّتِ النَّارُ فَقَالَ لَا قَدْ كُنَّا زَمَانَ نے حضرت جابر سے ان چیزوں کے کھانے کے