صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 399
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۹۹ ٧٠ - كتاب الأطعبة لے گا تو صاف ظاہر ہے کہ وہ اثر انسان کے معدہ میں بوساطت اس چکنائی کے جو انگلیوں سے چپکی ہوئی تھی پہنچے گا اور معدہ کے فعل یعنی ہضم میں تقویت دے گا اور اس طرح کھانا جلدی ہضم ہو گا۔۲۔ایک ڈاکٹر نے ثابت کیا ہے کہ منہ کے لعاب اور انگلیوں کی جلد کے ملنے سے منہ کے لعاب میں ایک کیفیت پیدا ہوتی ہے جو ہاضمہ پر خاطر خواہ اثر ڈالتی ہے۔اس نے اس بات کے ثبوت میں یہ بات پیش کی تھی کہ جو لوگ کانٹے چھری سے کھاتے ہیں ان کا کھانا بہ نسبت ان لوگوں کے جو انگلیوں سے کھاتے ہیں دیر میں ہضم ہوتا ہے اور جو لوگ انگلیاں منہ سے کم چھوتے ہیں بہ نسبت ان لوگوں کے جو کھانے کے پیچھے انگلیاں چوستے ہیں کمزور معدہ والے ہوتے ہیں کیونکہ انگلیوں اور منہ کے لعاب کے ملنے سے معدہ میں ہضم کا فعل عمدہ طور سے انجام پذیر ہوتا ہے۔۔چونکہ چلنے پھرنے سے اور ورزش سے اور ریاضت سے اور اعضاء کے ہلانے سے معدہ اچھی طرح کام دیتا ہے اور بر خلاف اس کے جو لوگ سیر کے عادی نہیں وہ ہمیشہ ہاضمہ کی شکایت کرتے ہی نظر آتے ہیں اس لیے ہاضمہ درست کرنے کے لیے ورزش ایک لابدی شرط ہے لیکن خورد سال بچے چلنا پھرنا تو کیا برسوں تک چار پائی سے اٹھ نہیں سکتے اور نہ ہی ورزش سالها سال تک انہیں نصیب ہوتی ہے اس لیے خداوند کریم نے انہیں ہاضمہ کی درستی کے لیے ہاتھ کے انگوٹھے اور انگلیوں کے چوسنے کا سہل نسخہ عطا فرمایا ہے۔تمام دنیا جانتی ہے کہ بچے اکثر اوقات انگلیاں چوستے رہتے ہیں اور یہ بات ہاضمہ کے درست کرنے کے لیے ان کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے۔۴۔جو بات کہ نیچر کے قانون کے مطابق بنی نوع انسان کیلئے مفید ہوتی ہے وہ خداوند کریم انسان کو عقل کے ذریعہ اور محنت اور تجربہ کے ذریعہ سے سکھاتا ہے۔لیکن بر خلاف اس کے جو چیز حیوانات اور بہائم کے مفید مطلب ہوتی ہے وہ ان حیوانات کو فطرتا اور خلقتادی جاتی ہے جیسے کہ تیر نا انسان کے لیے مفید ہے۔مگر بغیر تجربہ اور محنت کے انسان سیکھ نہیں سکتا۔لیکن بطخ کو بھی اس کی ضرورت ہے مگر اس کو فطرتا اور خلقتاً عنایت کیا گیا ہے۔یہ کہیں نہیں دیکھا گیا کہ بلخ کو تیرنے کے لیے تجربہ اور محنت کی ضرورت پڑی ہو۔اس