صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 398
صحیح البخاری جلد ۱۳ ٣٩٨ ٧٠- كتاب الأطعمة بَاب ٥٢: لَعْقُ الْأَصَابِعِ وَمَسُّهَا قَبْلَ أَنْ تُمْسَحَ بِالْمِنْدِيْلِ انگلیاں چاٹنا اور ان کو چوسنا پیشتر اس کے کہ اُن کو رومال سے پونچھا جائے ٥٤٥٦: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۵۴۵۶ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ أَنَّ النَّبِيَّ نے عمرو بن دینار سے، عمرو نے عطاء سے، عطاء صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَكَلَ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ نبی صلی أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھائے تو اپنا ہاتھ نہ پونچھے جب تک کہ ان کو أَوْ يُلْعِقَهَا۔چاٹ نہ لے یا فرمایا: ان کو چٹا نہ دے۔تشريح۔لَغَفُ الْأَصَابِع وَمَطْهَا قَبْلَ أَن تُمسَحَ بِالْمِنْدِيلِ :الگیاں اور ان کو چوسنا پیشتر اس کے کہ اُن کو رومال سے پونچھا جائے۔حضرت سید ( ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ) فرماتے ہیں: دو یہ بات تمام حکماء کے تجربہ میں آئی ہوئی ہے اور تمام طبیبوں کا اس پر اتفاق ہے کہ انسان کے ہاتھ کی انگلیوں میں ایک خاص لمس کی طاقت ہے۔مثلاً ہم اگر کسی کپڑے کی ملائمت کو دیکھنا چاہیں تو سوائے ہاتھ کی انگلیوں کے اس کی ملائمت کا اندازہ نہیں کر سکتے۔حالانکہ تمام جسم میں مس یا لمس کی طاقت پائی جاتی ہے لیکن ہاتھ کے سوا مثلاً پیر سے اگر ملائمت کا اندازہ لگانا ہو تو ہم پورے کامیاب نہ ہو سکیں گے۔ہاں ایک خاص برقی اثر ہے جو صرف ہاتھ بلکہ انگلیوں تک ہی محدود ہے اور ہاتھ کی انگلیوں سے آنکھ کا جو ایک توجہ کا آلہ ہے خاص تعلق ہے اسی لیے توجہ کرنے والے عامل بھی معمول کی انگلیوں کی طرف آنکھ زیادہ لڑاتے ہیں اور اس طرح سے معمول کے اوپر انگلیوں کے ذریعہ اپنی آنکھ کی تاثیرات خاطر خواہ طور پر ڈال سکتے ہیں اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں۔اسی طرح جو ادویہ ہاتھ سے بنائی جاویں وہ زیادہ فائدہ دیتی ہیں بہ نسبت ان دوائیوں کے جو مشین کے ذریعہ سے تیار کی جاویں۔پس اسی اصول کے ماتحت کھانا کھانے کے وقت جب انسان انگلیوں سے لقمہ اٹھاوے گا تو اس کی آنکھ ہر دفعہ لقمہ لیتے وقت انگلیوں کے سروں پر پڑے گی اور انگلیاں ہی ہوں گی پس جب انسان کھانے کے بعد پانی سے پیر دھونے یا کپڑے پونچھنے کے بغیر انگلیوں کو چاٹ