صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 397
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۹۷ ٧٠ - كتاب الأطعمة سُفْيَانُ كَأَنَّكَ تَسْمَعُهُ مِنْ يَحْيَى نہیں کیا۔اور سفیان نے ( علی بن مدینی سے) کہا: گویا کہ تم نے خود یجی سے یہ حدیث سنی۔أطرافه : ۲۰۹، ۲۱۰، ۲۹۸۱ ،٤۱۷۰، ٤۱۹٥، ٥۳۸٤ ٥٣٩٠، ٥٤٥٤۔تشریح الْمَضْمَضَةُ بَعْد الطَّعَامِ : کھانے کے بعد کلی کرنا۔مَضْمَضَ کے معنی ہیں حَرَكَ یعنی اس نے حرکت دی اور مَضَبَضَةُ حرکت دینا، پھر انا، منہ کے عضلات اور زبان سے پانی کو ادھر اُدھر ہلانا، کلی کرنا۔(اقرب الموارد - مضض) بعض روایات میں گوشت کھانے کے بعد وضو نہ کرنے کا ذکر ہے جبکہ بعض میں صرف کلی کرنے کا ذکر ہے۔اس لئے اصول منطق کی بناء پر یہ مسئلہ ثابت ہوا کہ کھانے کے بعد کلی کر کے نماز پڑھنی چاہیے۔کیونکہ بعض روایتیں صرف یہ بتلاتی ہیں کہ آپ نے وضو نہیں کیا۔یہ نہیں بتلائیں کہ آپ نے کلی بھی نہیں کی اور بعض روایتیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ آپ نے نہ صرف کلی کی بلکہ کلی کرنے کی وجہ بھی بیان فرمائی۔امام بخاری نے ان روایات میں منطقی اصول ملحوظ رکھ کر مسئلہ مذکورہ کو خوبی کے ساتھ واضح کیا ہے اور یہ ضرورت ان کو اس لئے پیش آئی ہے کہ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ آپ نے ایک موقع پر گوشت کھایا اور وضو کیا۔ایسی حالت میں یہ بھی امکان ہے کہ آپ بے وضو ہوں۔بعض کا خیال ہے کہ آپ پہلے وضو نہیں کیا کرتے تھے مگر بعد میں آپ نے فرمایا کہ آگ سے پکا ہوا کھانا کھایا جائے تو وضو کر لینا چاہیے۔یہ لوگ آپ کا پہلا عمل درآمد منسوخ سمجھتے ہیں اور آگ سے پختہ اشیاء کھانے سے وضو ڈ ہر انا ضروری قرار دیتے ہیں۔امام بخاری نے حضرت جابر کی روایت (نمبر ۵۴۵۷) سے اس بات کو واضح کیا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کے بعد وضو کر ناضروری نہیں ہے اور یہی مذہب جمہور کا ہے۔(ماخوذ از بیح بخاری ترجمه و شرح حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ، جلد اول صفحه ۴۹۴)