صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 395 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 395

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۹۵ ٧٠- كتاب الأطعمة جاتا ہے تو اس وقت بھی فرشتے ساتھ ہوتے ہیں۔لہسن کے کھیت میں بھی فرشتے ہوتے ہیں پیاز کے کھیت میں بھی فرشتے ہوتے ہیں، پھر اس حدیث کے معنی کیا ہوئے؟ در حقیقت اس جگہ فرشتہ سے مراد آسمان کا فرشتہ نہیں وہ تو پاخانہ میں بھی جاتا ہے لہسن کے کھیت میں بھی جاتا ہے، پیاز کے کھیت میں بھی جاتا ہے۔اس جگہ فرشتہ سے مراد شریف الطبع اور نازک مزاج انسان ہیں جن کے لئے بونا قابل برداشت ہوتی ہے اور جو اِس سے دُور بھاگتے ہیں اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مجالس میں آؤ تو عطر وغیرہ لگا کر آؤ تا کہ لوگوں کے اجتماع کی وجہ سے بُو پیدا نہ ہو“۔مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع میں بعض اہم ہدایات، انوار العلوم جلد ۲۲ صفحہ ۶۱) باب ٥٠ : الْكَبَاتُ وَهُوَ وَرَقُ الْأَرَاكِ کبات یعنی پیلو کے پھل ٥٤٥٣: حَدَّثَنَا سَعِيْدُ بْنُ عُفَيْرٍ :۵۴۵۳: سعید بن غفیر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ ( عبد الله ) بن وہب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ قَالَ يونس بن یزید ) سے، یونس نے ابن شہاب سے أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ كُنَّا روایت کی۔ابن شہاب نے کہا: مجھے ابو سلمہ (بن مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبدالرحمن بن عوف) نے بتایا۔انہوں نے کہا: بِمَرِّ الظَّهْرَانِ نَجْنِي الْكَبَاثَ فَقَالَ مجھے حضرت جابر بن عبد اللہ (انصاری) نے بتایا۔وہ کہتے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ فَإِنَّهُ أَيْطَبُ مرالظہران میں پیلو کے پھل چن رہے تھے۔آپ فَقِيْلَ أَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ قَالَ نَعَمْ نے فرمایا: ان میں سے کالے کالے چنو کیونکہ وہ وَهَلْ مِنْ نَبِيِّ إِلَّا رَعَاهَا۔طرفه: ٣٤٠٦۔زیادہ مزیدار ہوتے ہیں۔کہا گیا: کیا آپ بکریاں بھی چرایا کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا: ہاں اور کیا کوئی نبی بھی ایسا ہے جس نے ان کو نہ چرایا ہو۔عمدۃ القاری میں یہاں قمر الأراكِ“ کے الفاظ ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۲۱ صفحہ ۷۵) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔