صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 394 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 394

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۹۴ ٧٠- كتاب الأطعمة ނ " آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مَن اكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي القُوْمَ فَلَا يَأْتِيَنَ الْمَسَاجِدَ۔یعنی جو شخص کچے لہسن کا استعمال کرے اسے چاہیے کہ مسجد میں نہ آئے۔ایک دوسری حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وجہ بھی بیان فرمائی ہے کہ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَأْذَى مَا تَا ذَى مِنْهُ الْإِنسُ کے کہ ملائکہ بھی ان چیزوں ے تکلیف محسوس کرتے ہیں جن سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ باوجود اس کے کہ لہسن کھانا جائز ہے پھر بھی مساجد میں آنے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن اور پیاز وغیرہ کا کھانا ممنوع قرار دے دیا۔اور ایسے شخص کو نماز باجماعت سے بھی روک دیا۔ورنہ نماز تو کسی صورت میں بھی چھوڑی نہیں جاسکتی اور اگر مسجد میں نماز نہیں پڑھے گا تو بہر حال اُسے گھر پر نماز پڑھنی پڑے گی لیکن اس وجہ سے کہ وہ دوسروں کے لئے دُکھ اور تکلیف کا موجب نہ بنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا شخص اجتماعی عبادت سے الگ رہے تاکہ مومنوں کو تکلیف نہ ہو۔غرض یہ اسلام کی ایک بہت بڑی خوبی ہے کہ اس نے نہ صرف حلت و حرمت کے مسائل بیان کئے بلکہ اس نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ کھانے کی چیزوں میں سے ادنی درجہ حلال کا ہے اور حرام چیزوں میں سے ادنی درجہ کراہت کا ہے۔پس مومنوں کو حلال اور حرام پر ہی نظر نہیں رکھنی چاہیے بلکہ انہیں تقویٰ کی باریک راہیں اختیار کرتے ہوئے حلال میں سے بھی طیب چیزوں کو اختیار کرنا چاہیے اور حرام چیزیں تو الگ رہیں مگر وہ چیزوں کے پاس پھٹکنے سے بھی احتراز کرنا چاہیے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ البقره زیر آیت يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبت۔۔۔جلد دوم صفحه ۳۳۸،۳۳۷) نیز آپ فرماتے ہیں: صحت کا اس سے تعلق ہے، سوشل تعلقات پر اس کا اثر پڑتا ہے اور مذہب نے بھی اس کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اتنا زور دیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں اگر کوئی شخص پیاز کھا کر مسجد میں آجاتا ہے یا لہسن کھا کر مسجد میں آجاتا ہے تو فرشتے اس کے پاس نہیں آتے۔اب فرشتے تو ہر جگہ ہیں پاخانہ میں انسان (صحیح مسلم ، كِتَابُ الْمَسَاجِدِ، بَابُ نَني مَنْ أَكَلَ لُومًا أَوْ بَصَلَّا أَوْ كُرَانًا أَوْ نَحْوَهَا) (صحيح مسلم ، كِتَابُ الْمَسَاجِدِ، بَابُ نَهْي مَنْ أَكَلَ لُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَانًا أَوْ نَحْوَهَا)