صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 392
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۹۲ ٧٠ - كتاب الأطعمة النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ مرجو کو موٹا موٹا پیس کر اس سے آش بنایا اور وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ فَدَعَوْتُهُ قَالَ وَمَنْ ایک گھی کی کپی جو ان کے پاس تھی، نچوڑی۔ پھر مَعِي فَجِئْتُ فَقُلْتُ إِنَّهُ يَقُوْلُ وَمَنْ مُجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے بھیجا۔ میں آپ مَعِي فَخَرَجَ إِلَيْهِ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ کے پاس آیا۔ اس وقت آپ اپنے صحابہ کے يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ صَنَعَتْهُ أُمُّ درمیان بیٹھے تھے۔ میں نے آپ کو دعوت دی۔ سُلَيْمٍ فَدَخَلَ فَجِيءَ بِهِ وَقَالَ أَدْخِلْ آپ نے پوچھا اور میرے ساتھ جو لوگ ہیں و لوگ ہیں ( ان کی بھی دعوت ہے یا نہیں۔) میں آیا اور میں نے عَلَيَّ عَشَرَةً فَدَخَلُوْا فَأَكَلُوْا حَتَّى کہا کہ آپ فرماتے ہیں جو میرے ساتھ ہیں وہ شَبِعُوْا ثُمَّ قَالَ أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً بھی؟ حضرت ابو طلحہ آپ کے پاس گئے اور کہا فَدَخَلُوْا فَأَكَلُوْا حَتَّى شَبِعُوْا ثُمَّ قَالَ أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً حَتَّى عَدَّ أَرْبَعِيْنَ یا رسول اللہ ! بس یہی کچھ ہے جو اتم سلیم نے تیار کیا ہے۔ آپ اندر آئے اور وہ کھانا آپ کے سامنے ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لایا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: دس دس کو میرے پاس ثُمَّ قَامَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ هَلْ نَقَصَ اندر لے آؤ۔ ان کو اندر لایا گیا اور انہوں نے اتنا مِنْهَا شَيْءٌ۔ کھایا کہ سیر ہو گئے۔ پھر فرمایا کہ میرے پاس دس أطرافه ٤٢٢ ، ٣٥٧٨، ٥٣٨١، ٦٦٨٨۔ آدمیوں کو لے آؤ۔ وہ اندر آئے انہوں نے کھایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے۔ پھر فرمایا: دس اور میرے پاس لے آؤ، اسی طرح آپ نے چالیس آدمیوں کا شمار کیا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا پھر کھڑے ہو گئے اور میں دیکھنے لگا کہ کیا اس میں سے کچھ کم بھی ہوا۔