صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 390
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۹۰ ۷۰- كتاب الأطعبة بْنَ جَعْفَرٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ حضرت عبد اللہ بن جعفر سے سنا۔وہ کہتے تھے: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِيَّاءِ۔میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ گڑی کے ساتھ کھجوریں کھا رہے ہیں۔أطرافه: ٥٤٤٠ ٥٤٤٩۔بَاب ٤٦ : بَرَكَةُ النَّخْلَةِ کھجوروں کے درخت کی برکت ٥٤٤٨: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا :۵۴۴۸: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنْ زُبَيْدِ عَنْ طلحہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زبید ( بن حارث) مُجَاهِدٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ عَن سے، زبید نے مجاہد سے، مجاہد نے کہا: میں نے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنَ حضرت ابن عمر سے سنا۔حضرت ابن عمرؓ نبی صلی اللہ الشَّجَرِ شَجَرَةٌ تَكُوْنُ مِثْلَ الْمُسْلِمِ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔آپ نے فرمایا: درختوں میں سے ایک درخت ہے جو مسلمان کی مانند ہے اور وہ کھجور کا درخت ہے۔وَهِيَ النَّحْلَةُ۔أطرافة: ٦١ ، ۶۲، ۷۲، ۱۳۱ ، ۲۲۰۹، ٤٦۹۸، ٥٤٤٤، ٦١٢٢، ٦١٤٤- بَرَكَةُ النَّخْلَة : کھجوروں کے درخت کی برکت۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور اور مومن کی ریح : بعض صفات کے مشترک ہونے کی وجہ سے ان کو ایک دوسرے کا مثل قرار دیا ہے۔تشریح حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آپ فرماتے تھے کھجور اور مؤمن کے درمیان ایک رشتہ ہے کھجور کے پتے بھی اور اُس کا چھلکا بھی اور اُس کا کچا پھل بھی اور اس کا پکا پھل بھی اور اس کی گٹھلی بھی سب کے سب کار آمد ہیں اس کی کوئی چیز بھی بیکار نہیں۔مومن کامل بھی ایسا ہی ہوتا ہے اس کا کوئی کام بھی لغو نہیں ہو تا بلکہ اس کا ہر کام بنی نوع انسان کے نفع کے لئے ہوتا ہے۔“ ا (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحه ۳۸۰)