صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 389 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 389

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۸۹ ٧٠ - كتاب الأطعمة تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرَّهُ فِي ذَلِكَ نے ہر روز صبح کو سات عجوہ کھجوریں کھائیں اس کو الْيَوْمِ سُمٌ وَلَا سِحْرٌ۔ أطرافه: ٥٧٦٨ ٥٧٦٩، ٥٧٧٩۔ اس دن نہ کوئی زہر نقصان دے گا اور نہ کوئی جادو۔ بَاب ٤٤ : الْقِرَانُ فِي التَّمْرِ دو دو کھجوریں ملا کر کھانا ٥٤٤٦: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۵۴۴۶ آدم بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ قَالَ أَصَابَنَا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ جبلہ بن قیم نے ہم سے عَامُ سَنَةٍ مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَرَزَقَنَا تَمْرًا بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم حضرت ابن زبیر فَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِنَا کے ساتھ تھے ، ایک سال ہم میں قحط پڑا۔ وہ سب وَنَحْنُ نَأْكُلُ وَيَقُوْلُ لَا تُقَارِنُوْا فَإِنَّ کو کھجوریں دیتے تھے تو حضرت عبد اللہ بن عمر ہمارے سامنے سے گزرتے اور ہم اس وقت کھا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْإِقْرَانِ ثُمَّ يَقُوْلُ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ رہے ہوتے، وہ کہتے دو دو کھجوریں ملا کر نہ کھاؤ کیونکہ نبی صلی العلیم نے دو دو دو کھجوریں ملا کر کھانے سے منع الرَّجُلُ أَخَاهُ۔ قَالَ شُعْبَةُ الْإِذْنُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ۔ أطرافه: ٢٤٥٥ ، ٢٤٨٩، ٢٤٩٠۔ کیا ہے۔ پھر وہ کہتے: سوائے اس کے کہ آدمی اپنے بھائی سے اجازت لے لے۔ شعبہ نے کہا: یہ جو اجازت لینا ہے یہ حضرت ابن عمرہ کا قول ہے۔ بَاب ٤٥ : الْقِتَاءُ ککڑی ٥٤٤٧ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ ۵۴۴۷: اسماعیل بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا، عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ کہا: ابراہیم بن سعد نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سَعْدٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ اپنے باپ سے، ان کے باپ نے کہا: میں نے