صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 387
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۸۷ ٧٠ - كتاب الأطعبة فَجِئْتُهُ بِقَبْضَةٍ أُخْرَى فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ اور سو گئے۔پھر آپ جاگے اور میں آپ کے پاس قَامَ فَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ فَأَبَى عَلَيْهِ فَقَامَ مُٹھی بھر اور کھجور میں لایا۔آپ نے ان میں سے فِي القِطَابِ فِي النَّخْلِ الثَّانِيَةَ ثُمَّ کچھ کھا ئیں پھر کھڑے ہوئے اور یہودی سے گن کی لیکن اس نے آپ کی نہ مانی۔آخر آپ دوسری سر گفتگو قَالَ يَا جَابِرُ جُدْ وَاقْضِ فَوَقَفَ فِي بار ان کھجوروں میں جن کے پھل سبز تھے کھڑے الْجِدَادِ فَجَذَذْتُ مِنْهَا مَا قَضَيْتُهُ ہوئے پھر فرمایا: جابر کھجوریں کاٹو اور اس کا قرض وَفَضَلَ مِنْهُ فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ چکادو۔آپ کھجوریں کاٹنے کے اثنا میں ٹھہرے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَشَّرْتُهُ رہے میں نے ان سے اتنی کھجوریں کاٹیں جس سے فَقَالَ أَشْهَدُ أَنِّي رَسُوْلُ اللَّهِ۔اس کا قرضہ ادا کر دیا اور ان سے کچھ بیچ رہیں۔میں باغ سے نکل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو خوشخبری دی۔آپ نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔عُرْسٌ وَعَرِيْسٌ بِنَاءً وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عُرْشُ اور عریض کے معنی ہیں چھت۔اور حضرت معروشت (الأنعام : (١٤٢) مَا يُعَرِّشُ ابن عباس نے کہا: مَعْرُوشَاتٍ سے مراد ہے مِنَ الْكُرُومِ وَغَيْرِ ذَلِكَ يُقَالُ عُرُوْشُهَا انگور وغیرہ کی جو بیلیں سہارے پر کھڑی کی گئی أَبْنِيَتُهَا۔قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ہیں۔یہ جو کہا گیا ہے: عُرُوشُهَا اس کے معنی ہیں قَالَ أَبُو جَعَفَرٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ اس کی چھتیں۔محمد بن یوسف نے کہا۔ابو جعفر إِسْمَاعِيلَ فَخَلَا لَيْسَ عِنْدِي مُقَيّدًا کہتے تھے۔محمد بن اسماعیل نے کہا: خَلا کا لفظ ثُمَّ قَالَ فَجَلَى لَيْسَ فِيْهِ شَكٍّ۔) میرے پاس محفوظ نہیں ہے۔پھر کہا کہ یہ لفظ چکی ہے جس میں کوئی شک نہیں۔بَاب ٤٢: أَكْلُ الْجُمَّارِ کھجوروں کا گا بھا کھانا ٥٤٤٤ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ :۵۴۴۴ عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان