صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 382
صحیح البخاری جلد ۱۳ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ يَأْكُلُهَا ۔ ۳۸۲ ٧٠ - كتاب الأطعمة جس میں کدو اور سوکھا ہوا گوشت تھا۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ کروڈھونڈ ڈھونڈ کر کھاتے۔ أطرافه : ۲۰۹۲، ۵۳۷۹، ٥٤۲۰، ٥٤٣٣، ٥٤٣٥، ٥٤٣٦، ٥٤٣٩۔ ٥٤٣٨ : حَدَّثَنَا قَبِيْصَةٌ حَدَّثَنَا ۵۴۳۸ : قبیصہ (بن عقبہ ) نے ہم سے بیان کیا کہ سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عبد الرحمن بن عابس ( بن ربیع نخعی) سے ، عبدالرحمن قَالَتْ مَا فَعَلَهُ إِلَّا فِي عَامٍ جَاءَ نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے حضرت عائشہ النَّاسُ أَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيْرَ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: آپ وَإِنْ كُنَّا لَنَرْفَعُ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ نے قربانی کا گوشت سکھانے سے) جو منع فرمایا تو عَشْرَةَ وَمَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ صرف اس سال منع فرمایا جس سال لوگ قحط کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍ مَأْدُوْمٍ ثَلَاثًا ۔ وجہ سے بھوکے تھے۔ آپ چاہتے تھے کہ غنی فقیر کو کھلائے اور ہم تو پائے بھی اٹھا لیتے تھے۔ پندرہ پندرہ دن کے بعد کھاتے۔ اور محمد صلی اللہ أطرافه: ٥٤٢٣ ، ٥٥٧٠، ٦٦٥٧- علیہ وسلم کے اہل بیت نے تین دن بھی گیہوں کی روٹی سالن کے ساتھ سیر ہو کر نہیں کھائی۔ باب ۳۸ : مَنْ نَاوَلَ أَوْ قَدَّمَ إِلَى صَاحِبِهِ عَلَى الْمَائِدَةِ شَيْئًا دستر خوان پر جس نے اپنے ساتھی کو کوئی چیز پکڑائی یا پیش کی قَالَ وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ لَا بَأْسَ أَنْ (امام بخاری نے) کہا: اور (عبد اللہ ) بن مبارک يُنَاوِلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَلَا يُنَاوِلُ مِنْ نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ ایک دوسرے هَذِهِ الْمَائِدَةِ إِلَى مَائِدَةٍ أُخْرَى۔ کو دیں لیکن اس دسترخوان سے دوسرے دستر خوان والوں کو نہ دیں۔