صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 377
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۷۷ ٧٠ - كتاب الأطعمة أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ أَلْزَمُ النَّبِيَّ بن ابی ذئب سے، محمد بن عبد الرحمن نے (سعید صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِشِبَعِ بَطْنِي بن ابی سعید) مقبری سے، مقبری نے حضرت حِيْنَ لَا أَكُلُ الْخَمِيرَ وَلَا أَلْبَسُ ابوہریرہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں اپنا الْحَرِيْرَ وَلَا يَخْدُمُنِي فُلَانٌ وَلَا فُلَانَةُ پيٹ بھر بھر کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ ہمیشہ رہتا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نہ میں خمیری روٹی وَأَلْصِقُ بَطْنِي بِالْحَصْبَاءِ وَأَسْتَقْرِئُ کھایا کرتا تھا اور نہ ریشمی کپڑا پہنتا تھا اور نہ میری الرَّجُلَ الْآيَةَ وَهِيَ مَعِي كَيْ يَنْقَلِبَ خدمت کوئی غلام اور نہ کوئی لونڈی کرتی تھی اور بِي فَيُطْعِمَنِي وَخَيْرُ النَّاسِ لِلْمَسَاكِينِ میں اپنا پیٹ کنکریوں سے لگا دیتا تھا اور کسی آدمی جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَنْقَلِبُ بِنَا سے ایک آیت کا مفہوم پوچھا کرتا تھا حالانکہ وہ فَيُطْعِمُنَا مَا كَانَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى إِنْ مُجھے خوب معلوم ہوتی تاکہ وہ مجھے اپنے ساتھ كَانَ لَيُخْرِجُ إِلَيْنَا الْعُكَّةَ لَيْسَ فِيْهَا (گھر) لے جائے اور کھانا کھلائے اور مسکینوں کے شَيْءٌ فَنَشْتَقُهَا فَنَلْعَقُ مَا فِيْهَا۔ لئے تمام لوگوں سے بہتر حضرت جعفر بن ابی طالب تھے۔ ہمیں (گھر) لے جایا کرتے اور جو کچھ ان کے گھر میں ہوتا ہمیں کھلاتے یہاں تک کہ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ وہ ہمارے لئے گھی کی کپی نکالتے اور اس میں کچھ نہ ہوتا۔ ہم اس کو پھاڑ کر جو کچھ اس میں ہوتا کھا لیتے۔ طرفه: ۳۷۰۸ بَاب ٣٣: الدُّبَّاءُ کدو ٥٤٣٣ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ ۵۴۳۳: عمرو بن علی (فلاس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ کیا کہ از ہر بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ (عبد اللہ) بن عون سے، عبداللہ نے ثمامہ بن رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى انس سے ، تمامہ نے حضرت انس سے روایت کی