صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 373
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۷۳ باب ۲۹: الْأَكْلُ فِيْ إِنَاءٍ مُفَضَّضٍ ایسے برتن میں کھانا کھانا جس پر چاندی چڑھی ہو ٧٠ - كتاب الأطعمة ٥٤٢٦: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا :۵۴۲۶: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سیف بن سَيْفُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ الی سلیمان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: میں نے مُجَاهِدًا يَقُوْلُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ مجاہد سے سنا۔وہ کہتے ہیں: مجھے عبد الرحمن بن ابی بْنُ أَبِيْ لَيْلَى أَنَّهُمْ كَانُوْا عِنْدَ لیلی نے بتایا کہ وہ حضرت حذیفہ بن یمان) کے حُذَيْفَةَ فَاسْتَسْقَى فَسَقَاهُ مَجُوْسِيٌّ پاس تھے۔انہوں نے پانی مانگا تو ایک پارسی نے فَلَمَّا وَضَعَ الْقَدَحَ فِي يَدِهِ رَمَاهُ بِهِ آپؐ کو پانی پینے کو دیا۔جب اس نے گلاس آپ وَقَالَ لَوْلَا أَنِّي نَهَيْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا کے ہاتھ میں رکھا تو آپ نے اس کو پھینک دیا اور مَرَّتَيْنِ كَأَنَّهُ يَقُولُ لَمْ أَفْعَلْ هَذَا کہنے لگے : اگر میں نے اس کو دو دفعہ نہیں بلکہ کئی وَلَكِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دفعه منع نہ کیا ہوتا۔گویا ان کی مراد تھی کہ میں وَسَلَّمَ يَقُوْلُ لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيْرَ وَلَا گلاس کو اس طرح نہ پھینکتا مگر میں نے نبی صلی اللہ الدِّيْبَاجَ وَلَا تَشْرَبُوْا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے: ریشمی کپڑے وَالْفِضَّةِ وَلَا تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا نہ پہنو اور نہ دیباج اور نہ سونے چاندی کے فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي برتنوں میں پیو اور نہ ہی سونے چاندی کی رکابیوں میں کھاؤ کیونکہ یہ ان کے لئے دنیا میں ہیں اور الآخِرَةِ۔أطرافه : ٠٥٦٣٢ ٥٦٣٣ ٥٨٣١ ٥٨٣٧۔ہمارے لئے آخرت میں۔بَاب ۳٠: ذِكْرُ الطَّعَامِ کھانے کا بیان ٥٤٢٧: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ۵۴۲۷ : قتیبہ بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ ابو عوانہ ( وضاح) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ