صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 372
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۷۲ ٧٠ - كتاب الأطعبة رِجَالًا فَأَكَلُوْا وَكَانَ ذَلِكَ بِنَاءَهُ بِهَا۔رکھا۔پھر آپ نے مجھے بھیجا اور میں نے کئی لوگوں کو کھانے کے لئے بلایا اور انہوں نے کھایا۔اور یہی حضرت صفیہ کا ولیمہ تھا جو آپ نے کیا۔ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أَحَدٌ قَالَ پھر آپ آئے جب اُحد آپ کے سامنے ظاہر ہوا هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ فَلَمَّا أَشْرَفَ تو آپ نے فرمایا: یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ رَکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔جب آپ مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ نے فرمایا: اے مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ اللَّهُہ ہمیں مدینہ کے ان دونوں پہاڑوں کے درمیان مَكَّةَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي جو جگہ ہے اس کو ویسے ہی حرم قرار دیتا ہوں جیسے ابراہیم نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔اے اللہ ! انہیں إِبْرَاهِيمُ مُدِهِمْ وَصَاعِهِمْ۔أطرافه: ۳۷۱ ان کے مد میں اور ان کے صاع میں برکت دے۔،٢٩٤٤ ،۲۹۹۳ ،۲۸۹۳ ،۲۸۸۹ ،۲۲۳۵ ،۲۲۲۸ ،٦١٠، ٩٤٧ ،٣٠٨٦، ٣٣٦٧، ٣٦٤٧، ٤٤٠٨٣ ٤٠٨٤، ٤١٩٧ ،۳۰۸۵ ،۲۹۹۱ ۵۱۵۹ ،۵۰۸۵ ،۴۲۱۳ ،۱۲۱۲ ،۱۲۱۱ ،٤۲۰۱ ،٤۲۰۰ ،٢٩٤٥ ،٤١٩٩ ،۱۹۸ ۱٦٩، ۱۳۸۷، ٥٥۲۸، ٥٩٦٨، ١٨٥، ٠٦٣٦٣ ٦٣٦٩، ٧٣٣٣۔تشریح: الحيس: کھجور کا حلوہ۔علامہ بدر الدین مینی لکھتے ہیں کہ میں وہ کھانا ہے جو کھجور ، پنیر اور گھی سے تیار کیا جاتا ہے۔بعض اوقات پنیر کی جگہ آٹا ڈالا جاتا ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱ ۲ صفحہ ۵۷)