صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 370
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۷۰ ٧٠ - كتاب الأطعمة فَنَأْكُلُهُ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ قِيْلَ مَا سے بھوکے تھے تو آپ کی مراد یہ تھی کہ غنی فقیر کو اضْطَرَّكُمْ إِلَيْهِ فَضَحِكَتْ قَالَتْ مَا کھلائے اور ہم تو ( قربانی کے جانور کے) پائے اٹھا شَبعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کر رکھ چھوڑتے اور پھر پندرہ پندرہ دن کے بعد وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ انہیں کھاتے۔ان سے پوچھا گیا: آپ کو ایسی سخت ضرورت کیا تھی ؟ یہ سن کر وہ ہنس پڑیں کہنے لگیں حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ۔کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت نے اس وقت تک کہ آپ اللہ سے جاملے تین دن تک بھی گیہوں کی روٹی سالن کے ساتھ نہیں کھائی۔وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا اور (محمد بن کثیر نے کہا: ہمیں سفیان ثوری) عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ بِهَذَا۔نے بتایا کہ عبد الرحمن بن عابس نے ہم سے یہی أطرافه ٥٤٣٨ ٥٥٧٠، ٦٦٨- بیان کیا۔٥٤٢٤ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۵۴۲۴ عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے مجھ سے حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُوْمَ انہوں نے عمرو بن دینار) سے، عمرو نے عطاء الْهَدْيِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى الله بن ابي رباح) سے، عطاء نے حضرت جابر (بن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ۔تَابَعَهُ عبد الله انصاری) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: مُحَمَّدٌ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَقَالَ ابْنُ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانیوں جُرَيْجٍ قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَقَالَ حَتَّى جِئْنَا کے گوشت اپنے ساتھ مدینہ بھی لے جاتے تھے۔(عبد اللہ بن محمد کی طرح) اس حدیث کو محمد (بن سلام) نے بھی (سفیان بن عیینہ سے روایت کیا۔اور ابن جریج کہتے تھے: میں نے عطاء سے پوچھا: کیا حضرت جابر نے یوں کہا ہے کہ یہاں تک کہ ہم مدینہ آئے ؟ انہوں نے کہا: نہیں۔الْمَدِينَةَ قَالَ لَا۔أطرافه : ۱۷۱۹، ۲۹۸۰، ٥٥٦٧-