صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 364
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۷۰- كتاب الأطعمة نے حکم دیا کہ پہلا آنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں پیش کیا جائے تاکہ سب سے پہلے آپ ہی اس آٹے کی نرم نرم روٹی کھائیں۔چنانچہ آپ کے حکم کے مطابق وہ آٹا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں پیش ہوا۔آپ نے ایک عورت کو دیا کہ وہ اسے گوندھ کر روٹی تیار کرے۔جب میدے کے گرم گرم اور نرم نرم پھلکے تیار کر کے آپ کے سامنے لائے گئے تو آپ نے اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے ایک لقمہ توڑا اور اپنے منہ میں رکھ لیا مگر وہ لقمہ ابھی آپ نے اپنے منہ میں ڈالا ہی تھا کہ آپ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔دیکھنے والی عور تیں حیران رہ گئیں کہ آپ کے آنسو کیوں گرنے لگے ہیں۔چنانچہ کسی نے آپ سے پوچھا خیر تو ہے کیسی عمدہ اور نرم روٹی ہے اور آپ کے گلے میں پھنس رہی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا میرے گلے میں یہ روٹی اپنی خشکی کی وجہ سے نہیں پھنسی بلکہ اپنی نرمی کے باعث پھنسی ہے۔رنج کے واقعات نے مجھے رنجیدہ نہیں کیا بلکہ خوشی کی گھڑیوں نے مجھے افسردہ بنا دیا ہے۔ایک زمانہ تھا جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود تھے انہی کی برکت سے آج یہ نعمتیں ہمیں میسر ہیں مگر آپ کا یہ حال تھا کہ مدتوں گھر میں آگ نہیں جلتی تھی اور اگر روٹی پکتی بھی تو اس طرح کہ ہم سہل بٹہ پر غلہ پیس لیا کرتے اور پھونکوں سے اس کے چھلکے اڑا کر روٹی پکا لیا کرتے۔مجھے خیال آتا ہے کہ یہ نعمتیں ہمیں جس کے طفیل میسر آئی ہیں وہ تو آج ہم میں نہیں کہ ہم یہ نعمت اس کے سامنے پیش کرتے اور دولتیں اس کے قدموں پر شار کرتے لیکن ہم جن کا ان کا میابیوں کے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں ان نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔یہ خیال تھا جس نے مجھے تڑپا دیا اور جس کی وجہ سے میدے کا نرم نرم لقمہ بھی میرے گلے میں پھنس گیا۔( تفسیر کبیر، سورة الشمس زیر آیت وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَهَا جلد ۹ صفحه ۱۷،۱۶) احادیث الباب میں صحابہ کی قناعت اور شکر گزاری کا ذکر کیا گیا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ صحابہ کی سیرت کے اس پہلو کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یکدم انسان کو دولت مل جائے تو اُس کے اخلاق بگڑ جاتے ہیں مگر فرمایا یہ شتربان اونٹوں کو چراتے چراتے حکومت کے تخت پر جا بیٹھیں گے مگر کو دولتوں والی کمینگی ان کے اخلاق میں نہیں پائی جائے گی بلکہ غناء نعیم اُن کے چہروں سے ظاہر ہو گا چنانچہ صحابہ جہاں بیٹھتے اس امر کا صاف صاف اقرار کرتے کہ ہم غریب ہوتے تھے، بھوکے رہتے تھے ، کھانے