صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 365
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۶۵ ٧٠ - كتاب الأطعمة اور پہنے کو کچھ نہیں ملتا تھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی برکت سے خدا نے ہمیں یہ نعمتیں عطا فرما دیں۔ ایران کے بادشاہ نے ایک دفعہ اُن سے کہہ دیا کہ تم ذلیل لوگ گوہ کھانے والے میرے ملک پر حملہ کرنے کے لئے آئے ہو تمہاری حیثیت ہی کیا ہے کہ تم ایسا کر سکو۔ کوئی دوسرا ہوتا تو وہ لڑ پڑتا کہ میری جنگ کی گئی ہے مگر صحابہ نے کہا آپ نے جو کچھ کہا بالکل درست ہے ہماری یہی حالت ہوا کرتی تھی مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے کے بعد ہماری یہ حالت نہیں رہی۔ اب ہم میں تغیر پیدا ہو چکا ہے۔ غرض غناء نعمت اُن کا جزو بن گئی تھی یہ نہیں تھا کہ وہ اپنی گزشتہ حالت کو چھپاتے ہوں اور سمجھتے ہوں کہ اگر لوگوں کو ہماری پہلی حالت کا پتہ لگ گیا تو ہماری ہتک ہو گی۔ وہ اس میں کوئی ہتک نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس حالت سے دوسری حالت کو پانے میں خدا تعالیٰ کا ایک نشان دیکھتے تھے اس لئے اُس کے اظہار میں مزہ حاصل کرتے تھے۔“ رم ( تفسير كبير ، سورة المطففين زير آيت تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ جلد ۸ صفحه ۳۱۷) بَاب ٢٤ : التَّلْبِينَةُ تلبینه ٥٤١٧ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۵۴۱۷ : يحي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر ) النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سے عروہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت كَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَيْتُ مِنْ أَهْلِهَا عائشہؓ سے روایت کی کہ ان کی عادت تھی کہ جب فَاجْتَمَعَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا ان کے رشتہ داروں میں سے کوئی فوت ہو جاتا اور أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ اس وجہ سے عورتیں اکٹھی ہوتیں اور پھر وہ منتشر ہو تَلْبِيْنَةٍ فَطُبِخَتْ ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ جاتیں صرف ان کے ہی گھر والے اور خاص لوگ فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ رہ جاتے تو تلبینہ کی ہانڈی پکانے کا حکم دیتیں جو كُلْنَ مِنْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ پکائی جاتی۔ پھر سالن تیار کیا جاتا اور تلبینہ اس پر